Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 476

تفصیلی وضاحت — حکمت (476) : جب زیاد ابن ابیہ کو عبد اللہ ابن عباس کی قائم مقامی میں فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا تو ایک باہمی گفتگو کے دوران میں کہ جس میں اسے پیشگی مالگزاری کے وصول کرنے سے روکنا چاہا یہ کہا عدل کی روش پر چلو۔ بے راہ روی اور ظلم سے کنارہ کشی کرو کیونکہ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو گا کہ انہیں گھر بار چھوڑنا پڑے گا اور ظلم انہیں تلوار اٹھانے کی دعوت دے گا۔ (476- زیاد ابن ابیہ)

حکمت (476) میں امام علی (علیہ السلام) نے زیاد ابن ابیہ کو ایک اہم نصیحت کی۔ جب زیاد کو فارس اور اس کے ملحقہ علاقوں پر عامل مقرر کیا گیا تو انہوں نے اسے عدل و انصاف کے راستے پر چلنے کی تلقین کی۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب اسلامی حکومت میں مختلف علاقوں کے حکام کو انصاف کے اصولوں کی پاسداری کی ضرورت تھی، تاکہ عوام میں اعتماد قائم رہے۔

امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ بے راہ روی اور ظلم سے بچنا چاہیے کیونکہ یہ دونوں چیزیں معاشرتی عدم استحکام کا باعث بنتی ہیں۔ بے راہ روی کا نتیجہ یہ ہو سکتا ہے کہ لوگ اپنے گھروں سے بے گھر ہو جائیں، جبکہ ظلم کی صورت میں لوگ بغاوت کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔ یہ نصیحت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ایک حکمران کی ذمہ داری صرف مالی امور تک محدود نہیں ہوتی بلکہ اسے عوام کی فلاح و بہبود کا بھی خیال رکھنا چاہیے۔

اس حکمت میں امام علی (علیہ السلام) نے عدل کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔ عدل نہ صرف ایک اخلاقی اصول ہے بلکہ یہ ایک کامیاب حکومت کی بنیاد بھی ہے۔ جب حکام انصاف کے راستے پر چلتے ہیں تو عوام میں امن و سکون کی فضا قائم ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، ظلم و زیادتی معاشرتی بے چینی اور شورش کا سبب بنتی ہے۔

اس حکمت سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں انصاف اور عدل کی روشنی میں فیصلے کرنے چاہئیں۔ ہمیں اپنے اردگرد کے لوگوں کے حقوق کا خیال رکھنا چاہیے اور ظلم و زیادتی سے دور رہنا چاہیے۔ یہ نہ صرف ہماری ذاتی زندگی کے لیے بہتر ہے بلکہ معاشرتی ترقی کے لیے بھی ناگزیر ہے۔