(۴۷۹)
بدترین بھائی وہ ہے جس کیلئے زحمت اٹھانا پڑے۔
یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی جانب سے ایک اہم معاشرتی اور اخلاقی درس ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ اسلامی معاشرت میں بھائی چارے اور محبت کو بہت اہمیت دی گئی ہے۔ امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے کہ بعض اوقات لوگوں کے درمیان تعلقات میں تکلف اور زحمت آتی ہے، جو کہ ایک منفی پہلو ہے۔
اس حکمت میں 'بدترین بھائی' کی اصطلاح اس شخص کی نشاندہی کرتی ہے جو دوسروں کے لیے مشکلات اور زحمت کا سبب بنتا ہے۔ یہ ایک اخلاقی درس ہے کہ ہمیں اپنے بھائیوں اور دوستوں کے ساتھ ایسے رویے سے بچنا چاہیے جو ان کے لیے مشکلات پیدا کرے۔ اس کے بجائے، ہمیں ایک دوسرے کے لیے آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔
امام علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ حقیقی بھائی وہ ہیں جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں، نہ کہ وہ جو دوسروں کے لیے بوجھ بنتے ہیں۔ اس حکمت میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ زحمت اٹھانا کسی بھی تعلق میں محبت اور خوشی کو کم کر دیتا ہے، اور یہ ایک منفی اثر پیدا کرتا ہے۔
اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنے معاشرتی تعلقات میں آسانی پیدا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں یہ دیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے دوستوں اور بھائیوں کے لیے بوجھ نہ بنیں، بلکہ ان کی زندگیوں میں خوشی اور سکون کا باعث بنیں۔
