حکمت (51) : جب تک تمہارے نصیب یاور ہیں تمہارے عیب ڈھکے ہوئے ہیں۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی بصیرت اور انسانی نفسیات کی گہرائی کو بیان کرتی ہے۔ اس کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (ع) کی زندگی میں مختلف ادوار میں لوگوں کے درمیان اخلاقی اور سماجی چیلنجز کا سامنا تھا۔ یہ حکمت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ انسان کی تقدیر یا نصیب اس کی حالت اور معاشرتی ماحول سے جڑی ہوتی ہے۔
اس حکمت میں 'نصیب' کا لفظ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ جب انسان خوش نصیب ہوتا ہے تو اس کے عیب اور کمزوریاں چھپ جاتی ہیں۔ یہ ایک روحانی حقیقت ہے کہ خوشی اور کامیابی انسان کی شخصیت کو بہتر بناتی ہیں اور اس کی خامیوں کو کمزور کر دیتی ہیں۔ اس کے برعکس، جب انسان کی تقدیر اس کے ساتھ نہیں ہوتی تو اس کے عیوب نمایاں ہو جاتے ہیں۔
یہ حکمت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنے نصیب کی قدر کرنی چاہیے اور اپنے اعمال کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ ہمیں دوسروں کی مدد کرنی چاہیے تاکہ وہ بھی اپنی زندگی میں کامیاب ہوں۔ اس طرح ہم سب مل کر ایک خوشحال معاشرہ بنا سکتے ہیں۔
آخری طور پر، یہ حکمت ہمیں یہ یاد دلاتی ہے کہ ہم سب انسان ہیں اور ہمیں ایک دوسرے کی خامیوں کو دیکھنے کے بجائے ان کی خوبیوں کو اجاگر کرنا چاہیے۔
