حکمت (6) میں امام علی (علیہ السلام) نے خود پسندی کے خطرات اور صدقہ دینے کی اہمیت کو بیان کیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ جب کوئی شخص اپنی ذات میں اتنا محو ہو جاتا ہے کہ وہ خود کو سب سے بہتر سمجھتا ہے، تو وہ دوسروں کی نظر میں ناپسندیدہ ہو جاتا ہے۔ اس کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ خود پسندی انسان کو تنہائی کی طرف لے جاتی ہے اور یہ ایک سماجی مسئلہ بن جاتا ہے۔
اس حکمت میں دوسرا اہم نکتہ صدقہ دینے کی اہمیت ہے۔ امام علی (علیہ السلام) نے فرمایا کہ صدقہ ایک کامیاب دوا ہے۔ یہ نہ صرف مالی مدد فراہم کرتا ہے بلکہ دلوں کو جوڑتا ہے اور انسان کی روحانی حالت کو بہتر بناتا ہے۔ صدقہ دینے سے انسان کو سکون ملتا ہے اور اس کی خود پسندی کم ہوتی ہے۔
آخرت کے حوالے سے، امام علی (علیہ السلام) نے یہ بھی فرمایا کہ دنیا میں کیے گئے اعمال آخرت میں سامنے آئیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کا خیال رکھنا چاہیے کیونکہ وہ اس کے سامنے ہوں گے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ دنیاوی زندگی عارضی ہے اور حقیقی زندگی آخرت میں ہے۔
اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ خود پسندی سے بچنا چاہیے اور دوسروں کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے۔ صدقہ دینا ایک ایسا عمل ہے جو نہ صرف معاشرتی ہم آہنگی کو بڑھاتا ہے بلکہ انسان کی روحانی ترقی میں بھی مددگار ثابت ہوتا ہے۔
