حکمت (60): زبان ایک ایسا درندہ ہے کہ اگر اسے کھلا چھوڑ دیا جائے تو پھاڑ کھائے۔
یہ حکمت امام علی (علیہ السلام) کی زبانی بیان کی گئی ہے جو زبان کی طاقت اور خطرات کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ زبان کو درندے کے ساتھ تشبیہ دینا اس کی خطرناک نوعیت کو واضح کرتا ہے۔ اگر زبان کو بے لگام چھوڑ دیا جائے تو یہ انسان کی زندگی میں بہت سی مشکلات اور مسائل پیدا کر سکتی ہے۔
تاریخی تناظر میں، امام علی (علیہ السلام) کا زمانہ ایک ایسے دور میں گزرا جب معاشرتی اور سیاسی چالیں بہت پیچیدہ تھیں۔ زبان کی طاقت کا استعمال اس دور میں بھی ہوتا تھا، چاہے وہ دشمنی ہو یا دوستی۔ اس حکمت میں، امام علی (علیہ السلام) ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنی زبان کو کنٹرول میں رکھنا چاہیے، ورنہ یہ ہمیں نقصان پہنچا سکتی ہے۔
زبان کی درندگی کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم بے سوچے سمجھے بولیں، تو یہ دوسروں کے دلوں میں خوف، حسد یا نفرت پیدا کر سکتی ہے۔ اس سے نہ صرف معاشرتی مسائل پیدا ہوتے ہیں بلکہ یہ ہماری روحانی حالت کو بھی متاثر کرتی ہے۔
اخلاقی اور روحانی اسباق میں یہ شامل ہے کہ ہمیں اپنی گفتگو میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہمیں یہ سوچنا چاہیے کہ ہمارے الفاظ دوسروں پر کیا اثر ڈال سکتے ہیں۔ اس حکمت کا عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں اپنی زبان کو صرف اچھی باتوں کے لیے استعمال کرنا چاہیے اور برے الفاظ سے پرہیز کرنا چاہیے۔
