Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 66

تفصیلی وضاحت — حکمت (66) : مَطْلَب کا ہاتھ سے چلا جانا اہل کے آگے ہاتھ پھیلانے سے آسان ہے۔ (66- نا اہل سے سوال)

حکمت (66) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک عمیق حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ ضرورت کا ہاتھ سے چلا جانا، نااہل کے سامنے ہاتھ پھیلانے سے زیادہ آسان ہے۔ یہ حکمت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ انسان کی خودداری اور عزت نفس کو برقرار رکھنا کتنا اہم ہے۔ جب ہم کسی نااہل شخص کے سامنے اپنی ضروریات پیش کرتے ہیں، تو ہم اپنی حیثیت اور عزت کو کمزور کر دیتے ہیں۔ اس کے برعکس، اگر ہماری ضروریات پوری نہیں ہوتیں، تو ہم اپنی خودداری کو برقرار رکھ سکتے ہیں۔

یہ حکمت اس دور میں بھی بہت اہمیت رکھتی ہے جب لوگ دوسروں کی مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے میں عار محسوس کرتے ہیں، خاص طور پر جب وہ جانتے ہیں کہ مدد کرنے والا شخص نااہل ہے۔ امام علی (علیہ السلام) ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ ہمیں اپنی ضروریات کے لیے صرف ان لوگوں کی طرف رجوع کرنا چاہیے جو واقعی قابل اعتماد اور اہل ہوں۔

اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں خود انحصاری کی طرف بھی مائل کرتی ہے۔ ہمیں کوشش کرنی چاہیے کہ اپنی ضروریات کو خود پورا کریں اور دوسروں پر انحصار کرنے سے بچیں۔ یہ ایک مثبت رویہ ہے جو انسان کو خودمختار بناتا ہے اور اس کی شخصیت کو مضبوط کرتا ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی یاد دلاتی ہے کہ دنیاوی چیزوں کی طلب میں ہمیں اپنی عزت نفس کو کبھی بھی نظرانداز نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں ہمیشہ اپنے اصولوں کے مطابق چلنا چاہیے اور اپنی خودداری کو برقرار رکھنا چاہیے۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ نصیحت ہمیں ایک مضبوط اور باعزت زندگی گزارنے کی ترغیب دیتی ہے۔