حکمت (75) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایک اہم اصول بیان کیا ہے کہ جو چیز شمار میں آئے، اسے ختم ہونا چاہیے اور جسے آنا چاہیے، وہ آ کر رہے گا۔ یہ قول انسانی زندگی کی فطرت اور اس کے عارضی ہونے کی حقیقت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔ تاریخی تناظر میں، یہ بات اس وقت کی ہے جب لوگ دنیاوی چیزوں کی عارضیت کو بھول کر ان کی محبت میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔
اس حکمت کا مرکزی خیال یہ ہے کہ دنیا کی تمام چیزیں عارضی ہیں۔ انسان کو اس بات کی سمجھ بوجھ ہونی چاہیے کہ وہ چیزیں جو شمار میں آتی ہیں، یعنی جو ہماری زندگی میں موجود ہیں، وہ ایک دن ختم ہو جائیں گی۔ اس کے برعکس، جو چیزیں آنے والی ہیں، وہ اپنی جگہ پر آئیں گی۔ یہ ایک طرح سے دنیا کی فانی نوعیت اور آخرت کی ابدیت کی طرف اشارہ کرتا ہے۔
امام علی (علیہ السلام) کی یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں دنیا کی عارضیت کو سمجھ کر اپنی زندگی کے مقاصد کو آخرت کی تیاری کی طرف مائل کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی توجہ ان چیزوں پر مرکوز کرنی چاہیے جو مستقل اور ابدی ہیں، جیسے کہ نیک اعمال، اخلاقی اقدار، اور روحانی ترقی۔
عملی نقطہ نظر سے، اس حکمت کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں توازن پیدا کرنا چاہیے۔ ہمیں دنیاوی چیزوں کی محبت میں اتنا نہ کھو جانا چاہیے کہ ہم اپنی روحانی ترقی کو بھول جائیں۔ یہ حکمت ہمیں یاد دلاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کا حساب دینا ہے اور اس کا استعمال صحیح طریقے سے کرنا ہے۔
