حکمت (77) میں امام علی علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم پہلو کی عکاسی کی گئی ہے، جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی نے معاویہ کے سامنے ان کی عبادت اور دنیا سے بے زاری کا ذکر کیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرہ مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو ان کی تقویٰ، علم اور خدا سے محبت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس حکمت میں امام کی عبادت کی شدت اور دنیا کی فانی نوعیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔
امام علی علیہ السلام کی یہ دعا کہ "اے دنیا! دور ہو مجھ سے" ایک عمیق روحانی پیغام ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیاوی خواہشات اور عیش و عشرت کی فریبکاری سے بچنا ضروری ہے۔ امام کی یہ حالت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، نہ کہ دنیا کی عارضی چیزوں کی خواہش کرنا۔
امام نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس کی زندگی مختصر ہے، اور اس کی اہمیت بہت کم ہے۔ یہ پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں دنیا کی عیش و عشرت کی بجائے آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ امام کی یہ بات کہ "میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں" اس بات کی علامت ہے کہ وہ دنیا کی محبت سے مکمل طور پر آزاد ہیں۔
اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے سفر کی سختیوں اور آخرت کی منزل کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی راہ میں کوشش کرنا اور آخرت کی کامیابی کی تیاری کرنا ہے۔
