Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 77

تفصیلی وضاحت — حکمت (77) : جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی۔ تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ اے دنیا! اے دنیا دور ہو مجھ سے۔ کیا میرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے) بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے، جا کسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے۔ میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ تیری زندگی تھوڑی، تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا، راستہ طویل، سفر دور دراز اور منزل سخت ہے۔ (77- ضرار کا بیان)

حکمت (77) میں امام علی علیہ السلام کی زندگی کے ایک اہم پہلو کی عکاسی کی گئی ہے، جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی نے معاویہ کے سامنے ان کی عبادت اور دنیا سے بے زاری کا ذکر کیا۔ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرہ مختلف سیاسی اور سماجی چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا۔ امام علی علیہ السلام کی شخصیت کو ان کی تقویٰ، علم اور خدا سے محبت کی وجہ سے جانا جاتا ہے۔ اس حکمت میں امام کی عبادت کی شدت اور دنیا کی فانی نوعیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔

امام علی علیہ السلام کی یہ دعا کہ "اے دنیا! دور ہو مجھ سے" ایک عمیق روحانی پیغام ہے۔ یہ اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ دنیاوی خواہشات اور عیش و عشرت کی فریبکاری سے بچنا ضروری ہے۔ امام کی یہ حالت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک مومن کی زندگی کا مقصد صرف اللہ کی رضا حاصل کرنا ہے، نہ کہ دنیا کی عارضی چیزوں کی خواہش کرنا۔

امام نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس کی حقیقت کو واضح کیا ہے کہ اس کی زندگی مختصر ہے، اور اس کی اہمیت بہت کم ہے۔ یہ پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں دنیا کی عیش و عشرت کی بجائے آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔ امام کی یہ بات کہ "میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں" اس بات کی علامت ہے کہ وہ دنیا کی محبت سے مکمل طور پر آزاد ہیں۔

اس حکمت میں ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام علی علیہ السلام نے سفر کی سختیوں اور آخرت کی منزل کی اہمیت پر بھی زور دیا ہے۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اس دنیا میں ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی راہ میں کوشش کرنا اور آخرت کی کامیابی کی تیاری کرنا ہے۔