Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 79

تفصیلی وضاحت — حکمت (79) : حکمت کی بات جہاں کہیں ہو، اسے حاصل کرو، کیونکہ حکمت منافق کے سینے میں بھی ہوتی ہے۔ لیکن جب تک اس (کی زبان) سے نکل کر مومن کے سینے میں پہنچ کر دوسری حکمتوں کے ساتھ بہل نہیں جاتی، تڑپتی رہتی ہے۔ (79- حکمت)

حکمت (79) میں امام علی (علیہ السلام) نے حکمت کی اہمیت اور اس کی تلاش کی ضرورت پر زور دیا ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ جہاں کہیں بھی حکمت ہو، اسے حاصل کرنا چاہیے، چاہے وہ کسی بھی شخص کے پاس ہو، حتی کہ منافق کے پاس بھی۔ یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ حکمت کا منبع صرف مومنوں تک محدود نہیں ہے، بلکہ یہ ہر انسان میں موجود ہو سکتی ہے۔

اس حکمت کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنی زندگی میں مختلف چیلنجز کا سامنا کیا، اور ان کے دور میں معاشرتی اور سیاسی مسائل کی بھرمار تھی۔ اس وقت کے حالات نے ان کو یہ بات سمجھنے پر مجبور کیا کہ علم اور حکمت کا حصول ہر ایک کے لیے ضروری ہے، چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے تعلق رکھتا ہو۔

حکمت کی یہ بات ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ اگرچہ منافق کے پاس بھی حکمت ہو سکتی ہے، لیکن اس کی حقیقی قدر اس وقت تک نہیں پہچانی جا سکتی جب تک کہ وہ کسی مومن کے دل میں منتقل نہ ہو جائے اور وہاں پر دوسری حکمتوں کے ساتھ مل کر کام نہ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکمت کو سمجھنے اور اس سے فائدہ اٹھانے کے لیے ایک مومن کا دل اور ذہن ضروری ہیں۔

اس حکمت کا ایک عملی پہلو یہ ہے کہ ہمیں ہر جگہ سے علم حاصل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہم کسی بھی شخص یا صورت حال سے سیکھ سکتے ہیں، اور یہ ضروری نہیں کہ علم صرف مومنوں کے پاس ہو۔ اس کے علاوہ، ہمیں یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ علم کو اپنے اندر جذب کرنے کے بعد، ہمیں اسے اپنی زندگی میں عملی طور پر نافذ کرنا چاہیے۔

آخر میں، یہ حکمت ہمیں یہ درس دیتی ہے کہ علم کی طلب میں کبھی بھی تعصب نہیں برتنا چاہیے۔ ہمیں ہر جگہ سے سیکھنے کے لیے تیار رہنا چاہیے، کیونکہ علم کا کوئی مخصوص مالک نہیں ہوتا۔