یہ حکمت امام علی علیہ السلام کی بصیرت اور انسانی فطرت کی ایک عمیق تشریح ہے۔ اس میں دنیا کی فطرت اور انسان کی حالت کا ذکر ہے۔ تاریخی طور پر یہ حکمت اس وقت سامنے آئی جب مسلمانوں کے درمیان معاشرتی اور اقتصادی مسائل بڑھ رہے تھے۔ یہ دور امام علی کے خلافت کے ابتدائی ایام کا تھا، جب دنیاوی نعمتیں اور خوشحالی کی طلب نے لوگوں کو ایک دوسرے کی خوبیاں دیکھنے پر مجبور کر دیا۔
اس حکمت کا بنیادی موضوع یہ ہے کہ دنیاوی کامیابی اور خوشحالی عارضی ہوتی ہے۔ جب کوئی شخص دنیا کی نعمتوں کی طرف متوجہ ہوتا ہے تو وہ دوسروں کی خوبیوں سے متاثر ہوتا ہے اور ان کے اثرات قبول کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کی کامیابی کا انحصار اکثر دوسروں کی خوبیوں پر ہوتا ہے، جو عارضی حیثیت رکھتی ہیں۔
امام علی علیہ السلام نے اس حکمت میں یہ بھی واضح کیا ہے کہ جب دنیا کسی سے منہ موڑ لیتی ہے تو انسان کی اپنی خوبیوں کو بھی چھین لیتی ہے۔ یہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ دنیاوی کامیابی کے پیچھے بھاگنے والے افراد اپنی ذاتی خصوصیات اور اخلاقی صفات کو کھو دیتے ہیں، جو ان کی اصل پہچان ہوتی ہیں۔
اس حکمت کے ذریعے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ دنیا کی عارضی خوشیوں کے پیچھے بھاگنے کے بجائے، ہمیں اپنی اندرونی خوبیاں اور اخلاقی صفات کو سنوارنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ ہمیں سمجھنا چاہیے کہ دنیا کی نعمتیں عارضی ہیں اور ان کا اصل مقام ہمارے کردار اور اخلاق میں ہے۔ یہ حکمت ہمیں خودی اور خود اعتمادی کی اہمیت کی طرف بھی اشارہ کرتی ہے، کہ ہمیں اپنی خوبیوں پر یقین رکھنا چاہیے۔
