Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 88

تفصیلی وضاحت — حکمت (88) : دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزیں باعثِ امان تھیں، ایک ان میں سے اٹھ گئی، مگر دوسری تمہارے پاس موجود ہے۔ لہٰذا اسے مضبوطی سے تھامے رہو۔ وہ امان جو اٹھا لی گئی وہ رسولِ اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تھے اور وہ امان جو باقی رہ گئی ہے وہ توبہ و استغفار ہے جیسا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے فرمایا: »اللہ لوگوں پر عذاب نہیں کرے گا جب تک تم ان میں موجود ہو«۔ اللہ ان لوگوں پر عذاب نہیں اتارے گا، جب کہ یہ لوگ توبہ و استغفار کر رہے ہوں گے۔ (88- ایک لطیف استنباط)

حکمت (88) میں امام علی علیہ السلام نے دنیا میں عذابِ خدا سے دو چیزوں کو باعثِ امان قرار دیا ہے۔ ایک چیز جو کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہیں، وہ اٹھا لی گئی ہے، جبکہ دوسری چیز توبہ و استغفار ہے جو کہ اب بھی موجود ہے۔ یہ حکمت ہمیں یہ بتاتی ہے کہ رسول اللہ ﷺ کی موجودگی کے زمانے میں لوگ اللہ کی رحمت کے سایے میں تھے، اور جب وہ دنیا سے چلے گئے تو توبہ و استغفار کا راستہ باقی رہ گیا۔

تاریخی پس منظر میں، یہ حکمت اس وقت کی ہے جب امام علی علیہ السلام نے مسلمانوں کو اس بات کی یاد دہانی کرائی کہ اللہ کی رحمت ہمیشہ موجود ہے، بشرطیکہ لوگ توبہ کریں اور اپنی غلطیوں کا اعتراف کریں۔ یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ اللہ کی رحمت کبھی ختم نہیں ہوتی، بس ہمیں اس کا راستہ تلاش کرنا ہوتا ہے۔

اہم موضوعات میں سے ایک یہ ہے کہ توبہ کا عمل انسان کو اللہ کی رحمت کے قریب کرتا ہے۔ اس حکمت میں یہ بھی ذکر ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر عذاب نہیں نازل کرے گا جب تک وہ توبہ اور استغفار کرتے رہیں۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہم ہمیشہ اللہ کی طرف رجوع کریں اور اپنی خطاؤں کا اعتراف کریں۔

اس حکمت کے کلیدی جملے میں ”توبہ و استغفار“ کا ذکر خاص اہمیت رکھتا ہے۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ انسان کی زندگی میں غلطیاں ہونا ایک فطری عمل ہے، لیکن ان غلطیوں سے سیکھنا اور اللہ کی طرف لوٹنا ہی اصل کامیابی ہے۔

عملی نکات میں، ہمیں چاہیے کہ ہم اپنی روزمرہ کی زندگی میں توبہ اور استغفار کو شامل کریں۔ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے اعمال کا جائزہ لیں اور اللہ سے معافی مانگیں۔ یہ عمل نہ صرف ہماری روحانی حالت کو بہتر بناتا ہے بلکہ ہمیں اللہ کی رحمت کے قریب بھی کرتا ہے۔