Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 90

تفصیلی وضاحت — حکمت (90) : پورا عالم و دانا وہ ہے جب لوگوں کو رحمتِ خدا سے مایوس اور اس کی طرف سے حاصل ہونے والی آسائش و راحت سے نا امید نہ کرے، اور نہ انہیں اللہ کے عذاب سے بالکل مطمئن کر دے۔ (90- پورا علم)

حکمت (90) میں امام علی (علیہ السلام) نے علم کی ایک اہم خصوصیت کی وضاحت کی ہے۔ یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ ایک حقیقی عالم وہ ہے جو لوگوں کو اللہ کی رحمت سے مایوس نہ کرے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کیونکہ انسان کی زندگی میں امید کا عنصر بہت اہمیت رکھتا ہے۔ جب لوگ اللہ کی رحمت سے مایوس ہو جاتے ہیں تو وہ اپنی مشکلات میں ڈوب جاتے ہیں اور ان کے لئے زندگی کا جینا مشکل ہو جاتا ہے۔

امام علی (علیہ السلام) اس حکمت میں یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ایک عالم کو لوگوں کو اللہ کے عذاب سے بھی بالکل مطمئن نہیں کرنا چاہیے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اللہ کی رحمت اور عذاب دونوں کے بارے میں متوازن رہنا چاہیے۔ علم کا مقصد لوگوں کو صحیح راستے پر چلانا ہے، اور یہ تب ہی ممکن ہے جب ہم انہیں اللہ کی رحمت کی امید دلائیں اور ساتھ ہی اللہ کی قدرت اور عذاب کی حقیقت سے بھی آگاہ کریں۔

اس حکمت کا ایک اور پہلو یہ ہے کہ یہ ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ علم کا اصل مقصد لوگوں کی روحانی اور اخلاقی تربیت کرنا ہے۔ ایک عالم کی ذمہ داری ہے کہ وہ لوگوں کو اللہ کی رحمت کی طرف راغب کرے اور انہیں اللہ کے عذاب سے ڈرائے، تاکہ وہ نیکی کی راہ پر چلیں۔ یہ ایک توازن کی بات ہے، جو کہ علم کی حقیقت کی عکاسی کرتی ہے۔

یہ حکمت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں امید کی کرن کو کبھی مایوس نہیں ہونے دینا چاہیے۔ چاہے حالات کتنے بھی مشکل ہوں، اللہ کی رحمت ہمیشہ ہمارے ساتھ ہے۔ اس کے علاوہ، ہمیں اللہ کی قدرت کو بھی یاد رکھنا چاہیے، تاکہ ہم اپنی زندگیوں میں توازن برقرار رکھ سکیں۔