Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 98

تفصیلی وضاحت — حکمت (98) : جب کوئی حدیث سنو تو اسے عقل کے معیار پر پرکھ لو، صرف نقل الفاظ پر بس نہ کرو، کیونکہ علم کے نقل کرنے والے تو بہت ہیں اور اس میں غور کرنے والے کم ہیں۔ (98- روایت و درایت)

حکمت (98) میں امام علی علیہ السلام ہمیں ایک اہم نصیحت کرتے ہیں کہ جب ہم کوئی حدیث سنیں تو اس کو عقل کے معیار پر پرکھیں۔ یہ بات اس وقت کی اہمیت رکھتی ہے جب اسلامی معاشرہ علم و دانش کی تلاش میں تھا، اور مختلف روایات اور احادیث کا ایک بڑا ذخیرہ موجود تھا۔ امام علی (ع) یہ واضح کرتے ہیں کہ صرف الفاظ کا نقل کرنا کافی نہیں ہے، بلکہ ان الفاظ کی حقیقت اور ان کے پیچھے کے معانی کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔

یہ حکمت ہمیں بتاتی ہے کہ علم کی دو اقسام ہیں: ایک وہ علم جو صرف زبان پر ہوتا ہے، اور دوسرا وہ علم جو عمل کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے۔ امام علی (ع) اس بات پر زور دیتے ہیں کہ علم کا حقیقی معیار اس کے عمل میں ہے۔ اگر علم صرف زبانی ہو تو اس کی کوئی قیمت نہیں، جبکہ وہ علم جو ہماری زندگیوں میں عملی طور پر ظاہر ہوتا ہے، وہی علم بلند اور باعظمت ہے۔

یہ نصیحت ہمیں یہ بھی سکھاتی ہے کہ ہمیں علم کے حصول میں غور و فکر کرنا چاہیے۔ بہت سے لوگ علم کو صرف نقل کرنے کی حد تک محدود رکھتے ہیں، لیکن امام علی (ع) ہمیں یہ بتاتے ہیں کہ غور و فکر کرنے والے کم ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں علم کو سمجھنے اور اس پر عمل کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔

اس حکمت کے عملی پہلو یہ ہیں کہ ہمیں ہر حدیث یا علم کے ٹکڑے کو سننے کے بعد اس پر غور کرنا چاہیے، اس کی حقیقت کو سمجھنے کی کوشش کرنی چاہیے، اور پھر اس علم کو اپنی زندگی میں نافذ کرنا چاہیے۔ اس طریقے سے ہم علم کے حقیقی معنی کو سمجھ سکیں گے اور اپنی زندگیوں کو بہتر بنا سکیں گے۔