خطبہ (۱۱۷) میں، امیر المومنین علی ابن ابی طالب علیہ السلام نے اپنے ساتھیوں کو جہاد کے لیے تیار کرنے کی کوشش کی، لیکن وہ لوگ خاموش رہے۔ یہ خاموشی اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ جہاد کے لیے تیار نہیں تھے، یا شاید وہ خوف یا بے حوصلگی کا شکار تھے۔ امام نے ان کی خاموشی پر سوال کیا، کیا وہ گونگے ہو گئے ہیں؟ یہ سوال دراصل ان کی غیرت اور عزم کو چیلنج کرنے کے لیے تھا۔
امام نے فرمایا کہ اگر وہ خود جہاد کے لیے نہیں جا سکتے تو ان میں سے کسی بہادر کو جانا چاہیے۔ یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ قیادت کا فرض صرف خود لڑنا نہیں بلکہ اپنی قوم کو بھی تیار کرنا ہے۔ امام نے یہ بھی کہا کہ ان کے لیے یہ مناسب نہیں کہ وہ اپنی ذمہ داریوں کو چھوڑ کر جہاد میں نکلیں، کیونکہ وہ خود ایک ایسے مقام پر ہیں جس پر ان کی موجودگی بہت ضروری ہے۔
امام نے اپنے مقام کو چکی کے پتھر کی مثال دی، جو اپنے مقام پر رہتے ہوئے چکی کو چلاتا ہے۔ اگر وہ اپنی جگہ چھوڑ دیں تو چکی کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ قیادت کی طاقت اس کی موجودگی میں ہے۔ اگر قیادت اپنی ذمہ داریوں سے بھاگ جائے تو قوم کا نظام متاثر ہوتا ہے۔
امام نے یہ بھی واضح کیا کہ صرف تعداد میں ہونا کافی نہیں ہے، بلکہ دلوں کا اتحاد بھی ضروری ہے۔ اگر لوگ ایک دل نہیں ہیں تو ان کی تعداد کا کوئی فائدہ نہیں۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اتحاد اور یکجہتی کی ضرورت ہے، خاص طور پر مشکل وقتوں میں۔
آخر میں، امام نے یہ کہا کہ جو شخص صحیح راستے پر قائم رہے گا وہ جنت کی طرف جائے گا، اور جو پھسل جائے گا وہ عذاب کی طرف۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہمیں اپنی نیت اور عمل کو درست رکھنا چاہیے تاکہ ہم کامیاب ہو سکیں۔
