خطبہ (۱۲) کی تاریخی پس منظر میں یہ واقعہ ان جنگوں کے دوران پیش آیا جب امام علی علیہ السلام نے جمل والوں کے خلاف فتح حاصل کی۔ یہ جنگ ایک اہم موڑ تھی جس میں امامؑ نے اپنے مخالفین کے خلاف فتح حاصل کی، جو کہ اسلامی تاریخ میں ایک اہم واقعہ ہے۔ اس خطبہ میں امامؑ اپنے صحابی کی خواہش کا جواب دیتے ہیں کہ وہ اپنے بھائی کو دیکھنا چاہتا تھا جو اس فتح کا مشاہدہ کرتا۔
امامؑ نے اس موقع پر یہ بات واضح کی کہ صرف جسمانی موجودگی ہی اہم نہیں ہے بلکہ نیت اور محبت کا ہونا بھی ضروری ہے۔ جب صحابی نے کہا کہ اس کا بھائی انہیں دوست رکھتا ہے، تو امامؑ نے فرمایا کہ وہ بھائی دراصل ان کے ساتھ موجود ہے، کیونکہ محبت اور نیت کا تعلق کسی بھی شخص کی روحانی موجودگی سے ہے۔
یہ خطبہ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ کی راہ میں جدوجہد کرنے والوں کے لیے نیت اور محبت کی اہمیت ہے۔ امامؑ نے یہ بھی فرمایا کہ ان کے لشکر میں ایسے لوگ بھی شامل ہیں جو ابھی پیدا نہیں ہوئے، یعنی آنے والی نسلیں جو ایمان کو مضبوط کریں گی۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ ایمان کی قوت کبھی بھی وقت کی قید میں نہیں ہوتی۔
خلاصہ یہ ہے کہ یہ خطبہ نیت کی اہمیت، محبت کے رشتے، اور آنے والی نسلوں کے ایمان کی قوت کو اجاگر کرتا ہے۔ ہمیں اپنی نیتوں کو پاک اور خالص رکھنا چاہیے، کیونکہ یہی چیزیں ہمیں اللہ کی راہ میں کامیابی کی طرف لے جاتی ہیں۔
