خطبہ (۱۳۱) میں امام علی علیہ السلام نے اللہ کی عظمت اور قرآن کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب لوگ مختلف عقائد اور نظریات میں الجھ چکے تھے۔ امام نے اس خطبے میں اللہ کی عظمت کو بیان کرتے ہوئے کہا کہ دنیا اور آخرت دونوں اللہ کے زیر فرمان ہیں اور آسمان و زمین نے اپنی کنجیاں اس کے سامنے رکھ دی ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے اور ہر چیز اس کی مرضی کے سامنے سر تسلیم خم کرتی ہے۔
امام نے قرآن کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ کی کتاب ایسی ہے جس کی زبان کبھی لڑکھڑاتی نہیں، یعنی یہ ہمیشہ حق بات کرتی ہے اور اس کی تعلیمات میں کوئی تضاد نہیں۔ قرآن ایک ایسا گھر ہے جس کے ستون کبھی نہیں گرتے، یعنی اس کی بنیادیں مضبوط ہیں اور یہ ہمیشہ قائم رہے گا۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں قرآن کی تعلیمات پر عمل کرنا چاہیے کیونکہ یہ ہماری زندگی کے ہر پہلو میں رہنمائی فراہم کرتی ہیں۔
امام نے یہ بھی ذکر کیا کہ اللہ نے پیغمبر محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اس وقت بھیجا جب رسولوں کا سلسلہ رک چکا تھا اور لوگوں میں مختلف نظریات پھیل چکے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آخری پیغمبر کے طور پر بھیجا گیا تاکہ وحی کا سلسلہ مکمل ہو سکے۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ اللہ کی ہدایت ہمیشہ جاری رہتی ہے، اور ہمیں اس پر عمل پیرا ہونا چاہیے۔
امام نے دنیاوی زندگی کی حقیقت پر بھی روشنی ڈالی ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اندھے دل کا اختتام صرف اس دنیا تک محدود ہے، جبکہ بصیرت رکھنے والے لوگ آخرت کی حقیقت کو سمجھتے ہیں۔ یہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں دنیا کی عیش و عشرت میں نہیں رہنا چاہیے بلکہ آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔
آخر میں امام نے فرمایا کہ انسان کبھی بھی زندگی سے اکتا نہیں سکتا، مگر موت کی حقیقت کو قبول نہیں کرتا۔ یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کو اللہ کی رضا کے مطابق گزارنا چاہیے اور قرآن کی ہدایت کے مطابق عمل کرنا چاہیے۔
