Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 153

تفصیلی وضاحت — خطبہ (153) : چمگاڈر کی عجیب و غریب خلقت (153- چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کے بارے میں)

خطبہ (153) میں امام علی (علیہ السلام) چمگادڑ کی عجیب و غریب خلقت کا ذکر فرماتے ہیں۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب آپ کی خلافت کا دور جاری تھا، اور آپ نے لوگوں کو اللہ کی قدرت اور مخلوقات کی حکمتوں کی طرف متوجہ کرنے کی کوشش کی۔ چمگادڑ کی مثال کے ذریعے آپ نے اللہ کی خالقیت اور اس کی حکمتوں کا ذکر کیا ہے۔

اس خطبہ میں اللہ تعالیٰ کی عظمت اور اس کی صفات کا بیان کیا گیا ہے، جس میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ اللہ کی معرفت کی حقیقت کو سمجھنے میں عقلیں عاجز ہیں۔ آپ نے فرمایا کہ اللہ نے بغیر کسی مثال یا مشورے کے مخلوقات کو پیدا کیا، اور یہ سب اس کی قدرت کی علامت ہیں۔ چمگادڑ کی خاصیت یہ ہے کہ وہ رات کی تاریکی میں بہتر طور پر دیکھ سکتی ہیں، حالانکہ دن کی روشنی ان کی آنکھوں کے لیے مشکل پیدا کرتی ہے۔ یہ ایک مثال ہے کہ اللہ نے ہر مخلوق کو اس کی ضروریات کے مطابق بنایا ہے۔

امام علی (علیہ السلام) نے چمگادڑ کی آنکھوں کی خاصیت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ دن کی روشنی ان کی آنکھوں کو بند کر دیتی ہے، جبکہ رات کی تاریکی ان کے لیے ایک روشنی کی مانند ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ کی حکمتیں کبھی کبھی ہماری سمجھ سے بالاتر ہوتی ہیں۔ اسی طرح، چمگادڑ کی پرواز اور ان کی زندگی کی راہیں بھی اللہ کی قدرت کی نشانی ہیں۔

اس خطبہ کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ اللہ کی مخلوقات میں گہرائی سے غور و فکر کرنا چاہیے۔ ہر مخلوق میں ایک خاص حکمت پوشیدہ ہے، جو ہمیں اللہ کی قدرت اور اس کی حکمتوں کی طرف متوجہ کرتی ہے۔ ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ اللہ نے ہر چیز کو ایک خاص مقصد کے لیے پیدا کیا ہے، اور ہمیں اپنی زندگیوں میں اس کی نشانیوں کو دیکھنا چاہیے۔