خطبہ (164) میں امام علی (علیہ السلام) نے شفقت و مہربانی کی تعلیم اور بنی امیہ کے زوال کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ خطبہ اُس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کے پس منظر میں دیا گیا جب اسلامی معاشرے میں اختلافات بڑھ رہے تھے اور بنی امیہ کی حکمرانی کا دور چل رہا تھا۔ امام علی (ع) نے اس خطبہ میں مسلمانوں کو ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و مہربانی سے پیش آنے کی تلقین کی ہے تاکہ معاشرتی ہم آہنگی قائم رہے۔
امام (ع) نے فرمایا کہ چھوٹوں کو بڑوں کی پیروی کرنی چاہیے اور بڑوں کو چھوٹوں کے ساتھ مہربانی سے پیش آنا چاہیے۔ یہ بات بڑی اہمیت کی حامل ہے کیونکہ اس سے معاشرتی رشتے مضبوط ہوتے ہیں۔ امام نے جاہلیت کے دور کے لوگوں کی مثال دی جو دین اور خدا کے بارے میں سمجھ بوجھ نہیں رکھتے تھے۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ اگر ہم دین کی حقیقت کو سمجھنے میں ناکام رہیں تو ہم بھی اسی طرح کے جاہل بن جائیں گے۔
امام نے بنی امیہ کے زوال کی پیش گوئی کی ہے، جس میں وہ فرماتے ہیں کہ اللہ انہیں ایک دن جمع کرے گا جس دن ان کے لیے بدترین ہوگا۔ یہ ایک طاقتور تصویر پیش کرتا ہے کہ کس طرح اللہ کی قدرت کے سامنے انسانیت کی طاقتیں ناکام ہوتی ہیں۔ امام نے محبت و دوستی کی اہمیت پر زور دیا ہے اور کہا ہے کہ اللہ ان کے درمیان محبت پیدا کرے گا، جو کہ ایک امید افزا پیغام ہے۔
امام علی (ع) نے اس خطبہ میں یہ بھی کہا ہے کہ اگر لوگ حق کی مدد کریں تو ان پر کوئی طاقتور نہیں ہو سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم حق کے ساتھ کھڑے ہوں تو ہم طاقتور ہو سکتے ہیں۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ ہمیں حق کی حمایت کرنی چاہیے اور باطل کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔
آخر میں، امام نے فرمایا کہ اگر لوگ دعوت دینے والے کی پیروی کریں تو وہ انہیں رسول اللہ ﷺ کے راستے پر لے جائیں گے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ رہنمائی اور علم کی طلب ہمیشہ جاری رہنی چاہیے تاکہ ہم صحیح راستے پر چل سکیں۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ شفقت و مہربانی سے پیش آنا چاہیے اور حق کی حمایت کرنی چاہیے تاکہ ہم ایک مضبوط اور متحد معاشرہ بنا سکیں۔
