Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 173

تفصیلی وضاحت — خطبہ (173) : غفلت کرنے والوں کو تنبیہ (173- غفلت کرنے والوں کو تنبیہ اور آپؑ کے علم کی ہمہ گیری)

خطبہ (173) میں امام علی علیہ السلام نے غفلت کرنے والوں کو ایک سخت تنبیہ کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب مسلمانوں میں دین سے دوری اور دنیاوی امور کی طرف رغبت بڑھ رہی تھی۔ امام نے لوگوں کی اس حالت پر افسوس کا اظہار کیا ہے کہ وہ اللہ سے دور ہو رہے ہیں اور غیر اللہ کی طرف متوجہ ہو رہے ہیں۔ یہ خطبہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ انسان کو اپنی اصل منزل کو نہیں بھولنا چاہیے۔

امام نے ان لوگوں کی مثال دی ہے جو ہلاک ہونے والے چراگاہ کی طرف لے جائے جا رہے ہیں، جیسے کہ اونٹ یا بھیڑیں جو اپنے ذبح ہونے سے بے خبر ہیں۔ یہ تشبیہ اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ لوگ اپنی زندگی کے مقصد سے غافل ہیں اور صرف عیش و عشرت میں مشغول ہیں۔ امام نے فرمایا کہ اگر وہ چاہیں تو ہر ایک کی حالت اور اس کی منزل بتا سکتے ہیں، لیکن انہیں اس بات کا خوف ہے کہ لوگ ان کی بات کو نہیں مانیں گے۔

امام نے اپنی علم کی ہمہ گیری کا ذکر کیا ہے، کہ اللہ نے انہیں ہر چیز کی خبر دی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ امام کا علم صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی بھی ہے، اور وہ لوگوں کی رہنمائی کے لیے ہمیشہ تیار ہیں۔ امام نے یہ بھی کہا کہ وہ خود پہلے اس بات پر عمل کرتے ہیں جس کی وہ لوگوں کو تلقین کرتے ہیں۔ یہ ایک عظیم درس ہے کہ رہنما کو خود بھی اپنی باتوں پر عمل کرنا چاہیے۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں غفلت سے بچنا چاہیے اور اللہ کی طرف رجوع کرنا چاہیے۔ دنیاوی مشاغل میں اس قدر مشغول نہ ہوں کہ ہم اپنی آخرت کو بھول جائیں۔ امام علی علیہ السلام کا یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہماری اصل کامیابی اللہ کی رضا میں ہے۔