خطبہ (177) میں ذعلب یمانی نے امام علیؑ سے سوال کیا کہ کیا آپ نے اپنے پروردگار کو دیکھا ہے؟ یہ سوال ایک اہم تاریخی پس منظر میں ہے، جب لوگ خدا کی حقیقت اور اس کی معرفت کے بارے میں مختلف نظریات رکھتے تھے۔ امام علیؑ نے اس سوال کا جواب دیتے ہوئے واضح کیا کہ خدا کی عبادت اس وقت کی جا سکتی ہے جب اس کی حقیقت کو سمجھا جائے، چاہے اسے آنکھوں سے نہ دیکھا جا سکے۔
امامؑ نے فرمایا کہ آنکھیں خدا کو کھلم کھلا نہیں دیکھتیں، بلکہ دل ایمان کی حقیقتوں سے اسے پہچانتے ہیں۔ یہ ایک اہم فلسفیانہ نقطہ ہے جو خدا کی موجودگی کو محسوس کرنے کے لیے دل کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے۔ خدا ہر چیز سے قریب ہے، لیکن یہ قرب جسمانی نہیں ہے۔ یہ بات ہمیں یاد دلاتی ہے کہ خدا کی موجودگی ہر جگہ ہے، لیکن اس کا ادراک مختلف طریقوں سے کیا جا سکتا ہے۔
امامؑ نے مزید کہا کہ خدا نہ تو بولتا ہے اور نہ ہی کسی جسمانی مدد کے بغیر تخلیق کرتا ہے۔ یہ بیان خدا کی بے نیازی اور اس کی عظمت کو ظاہر کرتا ہے۔ امامؑ نے خدا کی صفات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ لطیف ہے، لیکن اسے پوشیدگی سے متصف نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ خدا کی حقیقت کو انسانی الفاظ میں بیان کرنا ممکن نہیں ہے۔
امامؑ کی یہ تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ خدا کی معرفت کا سفر دل کی گہرائیوں میں ہے، اور ہمیں اپنے ایمان کو مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔ ہمیں خدا کی صفات پر غور و فکر کرنا چاہیے اور اس کے قریب ہونے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ بھی یاد دلاتا ہے کہ خدا کی عظمت کے سامنے ہمارا سر جھک جاتا ہے اور دل اس کے خوف سے لرزاں ہوتا ہے۔
