Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 179

تفصیلی وضاحت — خطبہ (179) : اس جماعت کے متعلق فرمایا کہ جو خوارج سے مل جانے کا تہیا کئے بیٹھی تھیں (179- خوارج سے مل جانے کا تہیّہ کرنے والی جماعت سے فرمایا)

خطبہ (179) میں حضرت علی علیہ السلام نے ایک جماعت کی حالت پر روشنی ڈالی جو خوارج سے مل جانے کا ارادہ رکھتی تھی۔ یہ واقعہ اُس وقت کا ہے جب حضرت علی علیہ السلام کی خلافت کے دوران خوارج نے بغاوت کا ارادہ کیا۔ یہ جماعت خوف و ہراس میں مبتلا تھی، کیونکہ وہ جانتی تھی کہ حضرت علی علیہ السلام کی قیادت میں ان کا انجام اچھا نہیں ہوگا۔ جب حضرت نے اپنے صحابی کو ان کی حالت معلوم کرنے کے لیے بھیجا، تو اس نے بتایا کہ وہ بزدلی دکھاتے ہوئے واپس چلے گئے۔

حضرت علی علیہ السلام نے اس موقع پر قوم ثمود کی مثال دی، جو خدا کی رحمت سے دور ہو گئی۔ یہ مثال اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ جب لوگ حق سے منہ موڑ لیتے ہیں تو ان کا انجام کیا ہوتا ہے۔ حضرت نے فرمایا کہ جب ان پر تلواریں چلیں گی تو وہ اپنی غلطی پر پچھتائیں گے۔ یہ ایک زبردست تنبیہ ہے کہ انسان کو اپنی راہ کا انتخاب کرتے وقت سوچ سمجھ کر فیصلہ کرنا چاہیے۔

اس خطبے میں ایک اہم موضوع یہ ہے کہ شیطان انسان کو کیسے بہکاتا ہے۔ حضرت علی علیہ السلام نے واضح کیا کہ آج شیطان نے انہیں منتشر کر دیا ہے، اور کل وہ ان سے بیزار ہو جائے گا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ حق سے دور ہو جاتے ہیں، ان کا کوئی حامی نہیں رہتا۔ اس سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں ہمیشہ حق کی راہ پر قائم رہنا چاہیے اور شیطانی وسوسوں سے بچنا چاہیے۔

مجموعی طور پر، خطبہ (179) ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ بزدلی اور خوف کی حالت میں کبھی بھی غلط فیصلے نہ کریں۔ ہمیں اپنے ایمان کی مضبوطی کو برقرار رکھنا چاہیے اور حق کی راہ پر چلنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی رحمت ہمیشہ ان لوگوں کے ساتھ ہوتی ہے جو حق کے راستے پر چلتے ہیں۔