Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 182

تفصیلی وضاحت — خطبہ (182) : جب برج ابن مسہر طائی نے “لا حکم الا اللہ” کا نعرہ لگایا تو فرمایا (182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا)

خطبہ (182) : جب برج ابن مسہر طائی نے “لا حکم الا اللہ” کا نعرہ لگایا تو فرمایا (182- جب «لا حکم الا اللہ» کا نعرہ لگایا گیا تو فرمایا)

خطبہ (182) میں امام علی علیہ السلام نے برج ابن مسہر طائی کی جانب اشارہ کیا جو خوارج میں سے تھا اور اس نے "لا حکم الا اللہ" کا نعرہ بلند کیا۔ یہ نعرہ اس وقت بلند کیا گیا جب امام علی علیہ السلام اور خوارج کے درمیان کشیدگی بڑھ رہی تھی۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب خوارج نے امام کی قیادت کے خلاف بغاوت کا ارادہ کیا۔ اس نعرے کا مقصد یہ تھا کہ وہ امام کی حکمرانی کو چیلنج کریں اور یہ ظاہر کریں کہ صرف اللہ کا حکم ہی نافذ ہونا چاہیے۔

امام علی علیہ السلام نے برج کی بات کا جواب دیتے ہوئے فرمایا کہ جب حق ظاہر ہوا تو برج کی شخصیت ذلیل اور اس کی آواز دبی ہوئی تھی۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ جب حق کی حقیقت سامنے آتی ہے تو باطل کی حقیقت بھی عیاں ہو جاتی ہے۔ امام نے برج کو "ٹوٹے ہوئے دانتوں والا" کہہ کر اس کی کمزوری اور بے بسی کو واضح کیا۔

یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ حق کی آواز ہمیشہ بلند ہوتی ہے، چاہے باطل کتنی ہی طاقتور کیوں نہ ہو۔ امام علی علیہ السلام کی یہ بات ہمیں یہ سمجھاتی ہے کہ ہمیں حق کی حمایت میں کھڑے ہونے کی ضرورت ہے، چاہے حالات کتنے بھی مشکل کیوں نہ ہوں۔

اس خطبے میں ایک اہم سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کی بنیاد پر فیصلے کرنے چاہئیں، نہ کہ لوگوں کی رائے یا طاقت کے بل پر۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ اللہ کی طرف رجوع کرنا اور اس کی رضا کے لئے کام کرنا ہی اصل کامیابی ہے۔

← اصل متن پر واپس جائیں