خطبہ (187) میں امام علی (علیہ السلام) نے ایمان کی مختلف اقسام کا ذکر کیا ہے۔ ایک وہ ایمان ہے جو دلوں میں مستحکم ہوتا ہے اور دوسرا وہ جو عارضی ہوتا ہے۔ اس میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ اگر کسی شخص میں کوئی برائی نظر آئے تو اس کا اظہار اس وقت تک مؤخر کیا جائے جب تک وہ شخص وفات نہ پا جائے۔ یہ ایک اہم نکتہ ہے جو معاشرتی ذمہ داریوں اور اخلاقیات کی عکاسی کرتا ہے۔
امام علی (علیہ السلام) نے ہجرت کے اصول کو بھی بیان کیا ہے، جس کے مطابق ہجرت کا صحیح مفہوم یہ ہے کہ کوئی شخص اللہ کی حجت کو پہچانے اور اس کا اقرار کرے۔ یہ بات واضح کرتی ہے کہ ہجرت کا عمل صرف ظاہری نہیں بلکہ باطنی طور پر بھی ایک اہم پہلو رکھتا ہے۔ جو شخص اللہ کی حجت کو جانتا ہے، وہی حقیقی مہاجر ہے۔
یہ خطبہ اس وقت کی سیاسی و سماجی حالت کا عکاس ہے جب بنی امیہ کی حکومت کے خلاف آوازیں بلند ہو رہی تھیں۔ امام علی (علیہ السلام) نے لوگوں کو آگاہ کیا کہ وہ ان کے علم سے استفادہ کریں، کیونکہ وہ آسمان کے راستوں سے زمین کے راستوں سے زیادہ واقف ہیں۔ یہ ایک پیشگوئی بھی ہے کہ آنے والے وقت میں فتنہ و فساد پھیلنے والا ہے، جس سے لوگوں کی عقلیں متاثر ہوں گی۔
امام علی (علیہ السلام) کا یہ پیغام ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان کی مضبوطی پر توجہ دینی چاہیے اور اپنے معاشرتی معاملات میں احتیاط برتنی چاہیے۔ ہمیں اپنے علم و حکمت کا استعمال کرتے ہوئے صحیح راستہ اختیار کرنا چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں دعوت دیتا ہے کہ ہم اپنے ایمان کی حقیقت کو سمجھیں اور اس پر عمل کریں، تاکہ ہم فتنوں سے محفوظ رہ سکیں۔
