Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 195

تفصیلی وضاحت — خطبہ (195) : آپ ؑ نے ہی پیغمبر کی تجہیز و تکفین کے فرائض انجام دئے (195- حضورﷺ کے ساتھ آپؑ کی خصوصیات اور حضور ﷺ کی تجہیز و تکفین)

خطبہ (۱۹۵) میں امام علی علیہ السلام نے پیغمبر اکرم ﷺ کی رحلت کے بعد کے حالات کا ذکر کیا ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب اسلامی معاشرہ ایک نازک دور سے گزر رہا تھا، خاص طور پر پیغمبر ﷺ کی وفات کے بعد کے حالات میں۔ امام علیہ السلام نے اس خطبہ میں اپنی وفاداری اور قربانیوں کا ذکر کیا ہے جو انہوں نے پیغمبر ﷺ کے ساتھ کیں۔ یہ خطبہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ امام علی علیہ السلام نے کبھی بھی اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے احکام کی نافرمانی نہیں کی۔

امام علیہ السلام نے اپنی شجاعت کا ذکر کیا ہے، خاص طور پر ان مواقع پر جب دوسرے لوگ پیچھے ہٹ گئے تھے۔ یہ ان کی وفاداری کا ثبوت ہے اور یہ بتاتا ہے کہ وہ پیغمبر ﷺ کے ساتھ کس قدر وابستہ تھے۔ جب پیغمبر ﷺ کی روح ان سے جدا ہوئی تو انہوں نے اپنے ہاتھوں کو اپنے چہرے پر پھیر لیا، جو کہ ایک علامت ہے کہ انہوں نے اپنے پیغمبر کی محبت اور عزت کو ہمیشہ یاد رکھا۔

امام علیہ السلام نے پیغمبر ﷺ کے غسل اور تدفین کا ذکر کیا ہے، جس میں فرشتے بھی ان کی مدد کر رہے تھے۔ یہ واقعہ اس بات کی دلیل ہے کہ امام علی علیہ السلام کو پیغمبر ﷺ کی تدفین میں خاص مقام حاصل تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اب ان سے زیادہ کوئی اور پیغمبر ﷺ کا حقدار نہیں ہے، جو ان کی زندگی اور موت میں ان کے قریب ہو۔

امام علیہ السلام نے اپنے مخاطبین کو جہاد کی دعوت دی اور انہیں یہ بتایا کہ وہ حق پر ہیں اور ان کے مخالف باطل پر ہیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ حق کی راہ پر چلنے کے لیے ہمیں اپنی نیت کو خالص رکھنا چاہیے اور دشمن کا مقابلہ کرنا چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان اور اصولوں کے مطابق زندگی گزارنی چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔