Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 203

تفصیلی وضاحت — خطبہ (203) : جب طلحہ و زبیر نے یہ کہا کہ ہم سے مشورہ کیوں نہیں لیا جاتا تو آپؑ نے فرمایا (203- طلحہ و زبیر نے مشورہ نہ کرنے کا شکوہ کیا تو فرمایا)

خطبہ (۲۰۳) میں حضرت علیؑ نے طلحہ اور زبیر کی شکایت کا جواب دیا جو انہوں نے آپؑ سے مشورہ نہ لینے اور مدد کی درخواست نہ کرنے پر کیا۔ یہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب حضرت علیؑ نے خلافت سنبھالی تھی اور یہ دونوں صحابہ آپؑ کے قریبی ساتھی تھے۔ اس خطبے میں حضرتؑ نے واضح کیا کہ ان کی شکایت کا کوئی جواز نہیں ہے۔

حضرتؑ نے فرمایا کہ آپ کی سوچ ایک چھوٹی بات پر بگڑ گئی ہے جبکہ آپ نے کئی اہم چیزوں کو نظرانداز کیا ہے۔ آپ نے ان سے سوال کیا کہ کیا ان کا کوئی حق تھا جسے آپ نے دبایا یا کسی چیز میں ان کا حصہ تھا جسے آپ نے روکا؟ یہ سوالات اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ حضرتؑ نے ہمیشہ انصاف اور حق کی بنیاد پر فیصلے کیے۔

آپؑ نے اپنی نیت کو بھی واضح کیا کہ آپ نے کبھی بھی خلافت کی خواہش نہیں رکھی، بلکہ یہ لوگ تھے جنہوں نے آپ کو اس عہدے کے لیے آمادہ کیا۔ آپ نے اللہ کی کتاب اور رسول اللہ ﷺ کی سنت کی پیروی کی ہے اور کبھی بھی کسی کے مشورے کی ضرورت محسوس نہیں کی۔ یہ بات اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ حضرت علیؑ کو اپنی رہنمائی میں مکمل یقین تھا اور انہوں نے کبھی بھی اپنی ذاتی خواہشات کو اسلامی احکام پر ترجیح نہیں دی۔

مزید برآں، آپؑ نے یہ بھی واضح کیا کہ جو مساوات آپ نے بیت المال کی تقسیم میں رکھی ہے، وہ آپ کی ذاتی رائے نہیں بلکہ اللہ کی طرف سے طے شدہ ہے۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اسلامی احکام میں کسی بھی قسم کی ترمیم یا تبدیلی کی گنجائش نہیں ہے۔

آخر میں، حضرتؑ نے دعا کی کہ اللہ ہمارے دلوں کو حق پر قائم رکھے اور ہمیں صبر عطا کرے۔ یہ دعا اس بات کی علامت ہے کہ حق کی راہ میں چلنے کے لیے صبر کی ضرورت ہوتی ہے۔ آپؑ کا یہ پیغام آج بھی مسلمانوں کے لیے ایک اہم سبق ہے کہ حق کی مدد کریں اور باطل کو رد کریں۔