خطبہ (206) میں امام علی علیہ السلام نے صفین کی جنگ کے دوران اپنے لشکر کی سرکشی اور تحکیم کے معاملے پر گفتگو کی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب امام کے ساتھی جنگ کے حالات سے مایوس ہو کر آپس میں شکایت کرنے لگے۔ امام نے ان کو یاد دلایا کہ جب تک جنگ نے ان کو بے حال نہیں کیا، وہ آپ کی باتوں کے ساتھ تھے۔ یہ بات اس وقت کی ہے جب امام علی علیہ السلام کو اپنے لشکر کی وفاداری میں کمی کا سامنا تھا۔
امام نے فرمایا کہ خدا کی قسم، کچھ لوگ تو اللہ کی گرفت میں آ گئے اور کچھ کو چھوڑ دیا۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ اللہ کی حکمت اور اس کی قدرت کا کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا۔ اگر لشکر ثابت قدم رہتا تو فتح ان کی ہوتی۔ امام نے اس موقع پر یہ بھی کہا کہ کل تک وہ امر و نہی کے مالک تھے، مگر آج انہیں دوسروں کے احکام کے مطابق چلنا پڑ رہا ہے۔ یہ بات اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ قیادت کی ذمہ داریوں کے ساتھ ساتھ لوگوں کی خواہشات بھی ایک چیلنج بن سکتی ہیں۔
یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ جنگ اور مشکلات کے وقت ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ امام کا یہ کہنا کہ لوگوں نے دنیا کی زندگی کی خواہش کی، اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ انسان کی فطرت میں دنیا کی محبت ہوتی ہے، مگر اس کے ساتھ ساتھ دین اور اصولوں کے لیے وفاداری بھی ضروری ہے۔ یہ ہمیں یہ سبق دیتا ہے کہ ہمیں اپنی خواہشات پر قابو پانا چاہیے اور اصولوں کے مطابق چلنا چاہیے۔
