Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 227

تفصیلی وضاحت — خطبہ (227) : موت سے خائف رہنے والے اور زہد اختیار کرنے والے کے متعلق فرمایا (227- تقویٰ کی نصیحت موت سے خائف رہنے اور زہد اختیار کرنے کے متعلق)

خطبہ (۲۲۷) میں امام علی (علیہ السلام) نے موت سے خوف اور زہد کی اہمیت پر روشنی ڈالی ہے۔ یہ خطبہ اس وقت پیش کیا گیا جب مسلمانوں کو دنیا کی فانی نوعیت اور آخرت کی حقیقت کا سامنا تھا۔ امام نے اللہ سے خوف کو ہدایت کی کلید اور آخرت کا ذخیرہ قرار دیا، جو انسان کو ہر قسم کی غلامی اور تباہی سے نجات دلاتا ہے۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ انسان کو اپنی زندگی میں اعمال صالحہ کی طرف جلدی کرنی چاہیے، کیونکہ موت کا وقت کسی کو معلوم نہیں۔

امام نے موت کو ایک ناپسندیدہ مہمان اور ایک طاقتور حریف کے طور پر بیان کیا ہے، جو انسان کی خوشیوں کو تباہ کرتا ہے اور اس کی خواہشات کو دور کر دیتا ہے۔ ان کی تشبیہات سے یہ واضح ہوتا ہے کہ موت کی حقیقت کتنی خوفناک ہے۔ امام نے یہ بھی کہا کہ موت کے آنے سے پہلے اپنے اعمال کی طرف متوجہ ہو جائیں، کیونکہ یہ وقت بہت قیمتی ہے۔

امام نے دنیا کی فانی نوعیت کو بھی واضح کیا ہے، اور کہا ہے کہ دنیا انسان کو دھوکہ دیتی ہے۔ اس کے عیش و آرام عارضی ہیں اور اس کی مشکلات کبھی ختم نہیں ہوتیں۔ یہ دنیا انسان کو اپنے ماضی کی قوموں کی طرح دھوکہ دے سکتی ہے، جو دنیا کی محبت میں غافل ہو گئیں اور ان کا مال و دولت ان کے بعد رہ گیا۔

امام نے زاہدوں کی صفات کا ذکر کیا ہے، جو دنیا میں رہتے ہوئے بھی دنیا کی محبت میں مبتلا نہیں ہوتے۔ وہ اپنے اعمال کو آخرت کی طرف متوجہ کرتے ہیں اور دنیا کی فانی چیزوں سے دور رہتے ہیں۔ ان کا یہ طرز عمل ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں دنیا کی عیش و عشرت سے زیادہ اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے۔

اس خطبہ کا بنیادی پیغام یہ ہے کہ انسان کو اللہ کا خوف دل میں رکھنا چاہیے، اور اپنے اعمال کی طرف متوجہ ہونا چاہیے، تاکہ وہ موت کے وقت نادم نہ ہو۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ دنیا کی زندگی عارضی ہے اور ہمیں ہمیشہ اپنی آخرت کی تیاری کرنی چاہیے۔