خطبہ (۵) میں امام علی علیہ السلام نے ایک اہم موقع پر گفتگو کی جب رسول اللہ ﷺ کی وفات کے بعد ابو سفیان اور عباس نے آپ سے بیعت کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ یہ خطبہ اس وقت کا ہے جب اسلامی معاشرہ ایک نازک دور سے گزر رہا تھا۔ امام نے اپنی گفتگو میں لوگوں کو فتنہ و فساد کی لہروں سے نجات کی کشتیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ انہیں تفرقہ و انتشار کی راہوں سے بچنا چاہئے۔
امام علی علیہ السلام نے فخر و مباہات کے تاج اتارنے کی تلقین کی اور فرمایا کہ حقیقی کامیابی اسی شخص کی ہے جو ذمہ داری کے ساتھ اٹھے، ورنہ دوسروں کے لئے اقتدار کی کرسی چھوڑ دے تاکہ لوگ بد امنی سے محفوظ رہیں۔ یہ الفاظ اس بات کی عکاسی کرتے ہیں کہ امام کی نظر میں قیادت کا منصب ایک سنگین ذمہ داری ہے، نہ کہ کوئی فخر کا مقام۔
امام نے اس موقع پر خلافت کی طلب کو گدلے پانی یا ایسا لقمہ قرار دیا جو کھانے والے کے گلے میں پھنس جائے گا۔ اس تشبیہ سے امام نے یہ واضح کیا کہ اس وقت خلافت کا حصول ایک خطرناک عمل ہے جو معاشرتی عدم استحکام کا باعث بن سکتا ہے۔
امام علی علیہ السلام نے یہ بھی بیان کیا کہ اگر وہ بولیں تو لوگ انہیں دنیاوی سلطنت کی محبت کا طعنہ دیں گے، اور اگر خاموش رہیں تو موت سے ڈرنے کا الزام عائد کریں گے۔ یہ الفاظ اس بات کی نشاندہی کرتے ہیں کہ قیادت کے منصب پر فائز ہونے کے بعد کس طرح کی تنقید کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
آخر میں امام نے فرمایا کہ ان کے سینے میں ایک پوشیدہ علم ہے، جس کے افشا ہونے پر لوگ بے چینی محسوس کریں گے۔ یہ بات اس حقیقت کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ امام علی علیہ السلام کے پاس ایک ایسی بصیرت ہے جو عام لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ خطبہ ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قیادت کی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے لینا چاہئے اور فخر و غرور سے بچنا چاہئے۔
