Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 55

تفصیلی وضاحت — خطبہ (55) : صفین میں حضرت کے اصحاب نے جب اِذنِ جہاد دینے میں تاخیر پر بے چینی کا اظہار کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا:۔ (55- میدان صفین میں جہاد میں تاخیر پر اعتراض ہوا تو فرمایا)

خطبہ (۵۵) میں حضرت علی علیہ السلام نے میدان صفین میں اپنے اصحاب کی بے چینی کا جواب دیا جب انہوں نے جہاد کے لئے اجازت دینے میں تاخیر پر اعتراض کیا۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب اسلامی تاریخ میں ایک اہم موڑ آ رہا تھا، یعنی صفین کی جنگ، جو کہ ۳۷ ہجری میں ہوئی۔ اس جنگ میں حضرت علی علیہ السلام اور معاویہ کے درمیان شدید لڑائی ہوئی، اور یہ اسلامی تاریخ کی ایک فیصلہ کن جنگ تھی۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا کہ آپ کی تاخیر کا مطلب موت سے خوفزدہ ہونا نہیں ہے۔ آپ نے واضح کیا کہ آپ کو موت کی پرواہ نہیں ہے، چاہے وہ آپ کی طرف آئے یا آپ اس کی طرف بڑھیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ ایک مومن کو موت سے نہیں ڈرنا چاہئے، بلکہ اسے اپنی ذمہ داریوں کی ادائیگی میں ثابت قدم رہنا چاہئے۔

مزید برآں، آپ نے یہ بھی فرمایا کہ آپ نے جہاد میں تاخیر اس امید پر کی کہ شاید کچھ لوگ ہدایت پا جائیں اور آپ کے نور کو دیکھ سکیں۔ یہ ایک عظیم اخلاقی سبق ہے کہ انسان کو ہمیشہ دوسروں کی ہدایت کی کوشش کرنی چاہئے، چاہے اس کے لئے ذاتی خطرات ہی کیوں نہ ہوں۔

اس خطبے میں حضرت علی علیہ السلام نے یہ بھی واضح کیا کہ اگرچہ آپ کی نیت ہدایت دینا ہے، لیکن آخرکار ہر شخص اپنے اعمال کا ذمہ دار ہے۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی کوششیں کرنی چاہئیں، لیکن نتائج اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔

اس خطبے سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہمیں اپنے ایمان اور اصولوں کے لئے کھڑے رہنا چاہئے، اور ہدایت کی راہ میں کسی بھی قسم کی قربانی دینے سے نہیں ڈرنا چاہئے۔