خطبہ (84) میں امام علی علیہ السلام نے آخرت کی تیاری اور اللہ کی عبادت کے حوالے سے اہم نکات بیان کیے ہیں۔ یہ خطبہ اس وقت دیا گیا جب مسلمانوں کو اپنی دینی ذمہ داریوں کی طرف توجہ دینے کی ضرورت تھی۔ اس خطبے میں امام نے اللہ کی قدرت، علم اور اس کی ہر چیز پر حاکمیت کا ذکر کیا ہے، جو کہ ایک بنیادی اسلامی عقیدہ ہے۔
امام علی علیہ السلام نے فرمایا کہ انسان کو اپنی زندگی کے آخری لمحات سے پہلے اپنی نیتوں اور اعمال کی اصلاح کرنی چاہیے۔ یہ پیغام ہمیں یاد دلاتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے قیمتی لمحات کو غفلت میں نہیں گزارنا چاہیے۔ امام نے یہ بھی کہا کہ اللہ نے ہمیں بے کار پیدا نہیں کیا، بلکہ ہمیں ہدایت دی ہے تاکہ ہم اپنے اعمال کا حساب دے سکیں۔
خطاب میں امام نے اس بات پر زور دیا کہ ہمیں اپنے اعمال کی حفاظت کرنی چاہیے اور اللہ کی کتاب میں بیان کردہ حقوق کا خیال رکھنا چاہیے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری زندگی کا مقصد اللہ کی رضا حاصل کرنا اور آخرت کی تیاری کرنا ہے۔ امام نے کہا کہ جو شخص اپنے نفس کا خیر خواہ ہے، وہ اللہ کا زیادہ اطاعت گزار ہے۔
امام نے جھوٹ، حسد، اور بغض سے بچنے کی تلقین کی ہے، کیونکہ یہ چیزیں ایمان کو نقصان پہنچاتی ہیں۔ یہ نصیحت ہمیں بتاتی ہے کہ ہمیں اپنی روحانی حالت کو بہتر بنانے کے لیے ان برے اعمال سے دور رہنا چاہیے۔ امام نے امیدوں کے دھوکے سے بھی آگاہ کیا ہے، جو کہ انسان کو غفلت میں ڈال سکتی ہیں۔
آخر میں، امام علی علیہ السلام نے ہمیں یاد دہانی کرائی کہ ہمیں اپنے دین کی حفاظت کرنی چاہیے اور دوسروں سے نصیحت حاصل کرنی چاہیے۔ یہ خطبہ ہمیں ایک مضبوط اخلاقی بنیاد فراہم کرتا ہے تاکہ ہم اپنی زندگی کو بہتر بنا سکیں اور آخرت کی تیاری کر سکیں۔
