خطبہ ۹۷ میں امام علی (علیہ السلام) نے دنیا کی فانی نوعیت اور اس سے کنارہ کشی کی اہمیت پر زور دیا ہے۔ یہ خطبہ ایک ایسی تاریخی پس منظر میں پیش کیا گیا جب اسلامی معاشرہ ترقی کی راہوں پر گامزن تھا، لیکن دنیاوی لذتوں اور فانی چیزوں کی طرف رغبت بھی بڑھ رہی تھی۔ امام (ع) نے اس خطبے میں دنیا کی عارضیت، اس کی فریبکاری، اور اس کے ساتھ انسانی تعلقات کی ناپائیداری پر روشنی ڈالی ہے۔
امام (ع) نے فرمایا کہ دنیا انسان کو چھوڑنے والی ہے، اور اس کا ساتھ دینا ایک فریب ہے۔ اس دنیا کی مثال مسافروں کی طرح ہے جو ایک راستے پر چلتے ہیں اور جلد ہی اپنی منزل پر پہنچ جاتے ہیں۔ اس تشبیہ سے یہ واضح ہوتا ہے کہ انسانی زندگی بھی ایک سفر کی مانند ہے، جو جلدی ختم ہو جاتا ہے۔ امام (ع) نے اس بات پر زور دیا کہ دنیا کی عزت اور فخر عارضی ہیں، اور ان کی طلب انسان کو گمراہی کی طرف لے جاتی ہے۔
خطبہ میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو دنیا کی آرائشوں اور نعمتوں پر خوش نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ سب زائل ہونے والی ہیں۔ امام (ع) نے گزرے ہوئے لوگوں کے واقعات کا ذکر کیا اور ان کی عبرت آموزی کی طرف اشارہ کیا۔ یہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ موت ایک حقیقت ہے، اور ہمیں اس کی یاد میں اپنی زندگیوں کو سنوارنا چاہیے۔
امام (ع) نے بد اعمالیوں سے بچنے کی نصیحت کی اور موت کو یاد رکھنے کی اہمیت پر زور دیا۔ یہ نصیحت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہمیں اپنی زندگیوں میں اللہ کے حقوق کو ادا کرنے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ اس خطبے کا عملی سبق یہ ہے کہ ہم دنیا کی فانی نوعیت کو سمجھیں اور اپنی زندگیوں کو آخرت کی تیاری کے لیے بہتر بنائیں۔
