مکتوب (18) میں امام علی (علیہ السلام) نے اپنے ایک خط میں والی بصرہ، عبد اللہ ابن عباس کو مخاطب کیا ہے۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب امام علی (ع) خلافت کی ذمہ داری سنبھال چکے تھے اور مختلف علاقوں کے گورنروں کو ہدایت دے رہے تھے۔ بصرہ ایک اہم شہر تھا جہاں مختلف قبائل کے لوگ آباد تھے، اور اس شہر کی سیاسی اور سماجی صورتحال پیچیدہ تھی۔ امام علی (ع) نے اس خط میں بصرہ کے لوگوں کے ساتھ حسن سلوک کی اہمیت پر زور دیا ہے، خاص طور پر بنی تمیم کے قبیلے کے ساتھ، جن کی تاریخ میں جاہلیت اور اسلام دونوں میں نمایاں حیثیت رہی ہے۔
امام علی (ع) نے یہ بھی ذکر کیا کہ بصرہ میں شیطان کی موجودگی اور فتنوں کا سر اٹھانا ایک حقیقت ہے، اس لیے ضروری ہے کہ وہاں کی عوام کو خوش رکھا جائے اور ان کے دلوں سے خوف نکالا جائے۔ اس کا مقصد یہ ہے کہ لوگ سکون اور اطمینان کے ساتھ رہیں، تاکہ وہ اپنی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لا سکیں۔ یہ ایک اہم پیغام ہے کہ قیادت کی ذمہ داری صرف طاقت اور اختیار کے استعمال تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ عوام کے دلوں میں محبت اور اعتماد پیدا کرنا بھی شامل ہے۔
امام علی (ع) نے عبد اللہ ابن عباس کو خاص طور پر متنبہ کیا کہ وہ بنی تمیم کے ساتھ سختی نہ برتیں، کیونکہ ان کے ساتھ رشتہ داری کا تعلق بھی ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ معاشرتی روابط کو مدنظر رکھنا اور ان کا خیال رکھنا ایک نیک عمل ہے، جس کا اجر بھی ملتا ہے۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ ہمیں اپنے معاشرتی تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے کوشش کرنی چاہیے، خاص طور پر ان لوگوں کے ساتھ جن کا ہمارے ساتھ رشتہ ہے۔
امام علی (ع) نے اس خط میں ایک اور اہم نکتہ یہ بیان کیا کہ کسی بھی کام میں جلد بازی نہ کریں۔ یہ بات ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ ہر عمل کا ایک وقت اور طریقہ ہوتا ہے، اور ہمیں سوچ سمجھ کر فیصلے کرنے چاہئیں۔ یہ ایک روحانی سبق ہے کہ ہم اپنے اعمال کے نتائج کو سمجھیں اور ان کے بارے میں غور کریں۔ امام علی (ع) نے اپنے حسن ظن کی بات کی، جو کہ ایک نیک نیتی کی علامت ہے، اور اس کی اہمیت کو اجاگر کیا۔
آخر میں، امام علی (ع) نے اس خط کو اختتام کیا اور عبد اللہ ابن عباس کو دعا دی۔ یہ دعا ایک رہنما کے لیے بہت اہم ہے، کیونکہ اس میں اللہ کی رحمت کی طلب کی گئی ہے، جو کہ قیادت کی کامیابی کے لیے ضروری ہے۔ یہ خط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ قیادت کا اصل مقصد عوام کی خدمت کرنا اور ان کے دلوں میں محبت پیدا کرنا ہے۔
