Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 26

تفصیلی وضاحت — مکتوب (26) : ایک کارندے کے نام کہ جسے زکوٰۃ اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا تھا یہ عہدنامہ تحریر فرمایا (26- زکوۃ کے ایک کارندے کے نام)

مکتوب (26) امام علی علیہ السلام کا ایک اہم خط ہے جو انہوں نے اپنے ایک کارندے کو لکھا جو زکوٰۃ اکٹھا کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ یہ خط اس وقت کی اہمیت کو اجاگر کرتا ہے جب اسلامی معاشرت میں زکوٰۃ کی اہمیت اور اس کے صحیح طریقے سے جمع کرنے کی ضرورت تھی۔ امام علی علیہ السلام نے اس خط میں چند بنیادی اصول بیان کیے ہیں جو نہ صرف زکوٰۃ کے معاملات بلکہ عمومی طور پر اسلامی اخلاقیات کے لیے بھی رہنمائی فراہم کرتے ہیں۔

امام علیہ السلام کے پہلے حکم میں یہ بات واضح کی گئی ہے کہ کارندوں کو اپنے ارادوں اور اعمال میں اللہ سے ڈرنا چاہیے، خاص طور پر جب کوئی گواہ نہ ہو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ حقیقی تقویٰ اس وقت ظاہر ہوتا ہے جب انسان اکیلا ہو، اور اس کے اعمال میں کوئی دوسرا نگران نہ ہو۔ اس اصول کی بنیاد پر، امام نے یہ بھی فرمایا کہ ظاہر اور باطن میں تضاد نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ یہ امانتداری کی علامت ہے۔

امام علیہ السلام نے اس بات پر زور دیا کہ کارندے لوگوں کو اذیت نہ پہنچائیں اور ان کے ساتھ برابری کا سلوک کریں۔ یہ ایک اہم اخلاقی سبق ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ کسی بھی عہدے یا مقام کی بنا پر دوسروں کی عزت نفس کو پامال نہیں کرنا چاہیے۔ اس کے علاوہ، امام نے اس بات کی وضاحت کی کہ زکوٰۃ کا مال صرف جمع کرنے والوں کا حق نہیں بلکہ اس میں غریبوں اور مسکینوں کا بھی حصہ ہے۔

خط کے آخر میں امام نے خیانت کی سنگینی کو بیان کیا ہے، اور یہ واضح کیا ہے کہ جو شخص امانت کو حقیر سمجھے گا اور خیانت کے راستے پر چلے گا، وہ دنیا میں بھی ذلیل ہوگا اور آخرت میں بھی۔ یہ ایک زبردست انتباہ ہے کہ قیامت کے دن ان لوگوں کے خلاف فقیر اور مسکین گواہی دیں گے جو ان کے حقوق سے محروم رہے۔ امام علی علیہ السلام کا یہ خط ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امانتداری اور دیانتداری اسلامی معاشرت کی بنیاد ہیں، اور ان کی پاسداری نہ کرنا نہ صرف فرد بلکہ پوری امت کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔