مکتوب (۳۶) میں، امیر المومنین علیہ السلام نے اپنے بھائی عقیل ابن ابی طالب کے خط کا جواب دیا ہے جس میں دشمن کی طرف بھیجی گئی فوج کا ذکر ہے۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب اسلامی ریاست کو مختلف چیلنجز کا سامنا تھا، خاص طور پر قریش کی طرف سے۔ قریش نے امیر المومنین کے خلاف جنگ شروع کی تھی، جیسا کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے خلاف بھی کیا تھا۔ اس خط میں امام علی (علیہ السلام) نے اپنی فوج کی کامیابی کا ذکر کیا ہے، جس نے دشمن کو بھگانے میں کامیابی حاصل کی۔
امام علی (علیہ السلام) نے اس خط میں قریش کی گمراہی اور سرکشی کی مذمت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ قریش نے ان کے رشتے کا کوئی لحاظ نہیں رکھا اور ان کی ماں کی حکومت کو ان سے چھین لیا۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قریش کی دشمنی کی جڑیں کتنی گہری تھیں اور انہوں نے اپنے مفادات کے لیے کس حد تک جا سکتے تھے۔
امام علی (علیہ السلام) نے جنگ کے بارے میں اپنی رائے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ان لوگوں سے جنگ کرنی چاہیے جنہوں نے جنگ کو جائز قرار دیا ہے۔ یہ ایک مضبوط موقف ہے جو اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ امام علی (علیہ السلام) نے اپنے اصولوں پر کبھی سمجھوتہ نہیں کیا۔ انہوں نے اپنے بھائی کو بھی تسلی دی کہ وہ کبھی بھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کریں گے، چاہے ان کا ساتھ چھوڑنے والے کتنے ہی لوگ ہوں۔
اس خط میں ایک اہم پیغام یہ ہے کہ انسان کو ہمیشہ اپنے اصولوں پر قائم رہنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔ امام علی (علیہ السلام) نے خود کو ایک مضبوط شخصیت کے طور پر پیش کیا ہے جو زمانے کی سختیوں کا سامنا کر سکتا ہے۔ ان کا یہ کہنا کہ وہ کبھی بھی حزن و غم کے آثار نہیں دکھائیں گے، اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ ایک رہنما کو کیسا ہونا چاہیے۔
اس خط کا ایک عملی سبق یہ ہے کہ ہمیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس ہونا چاہیے اور دشمن کے سامنے کبھی بھی کمزوری کا مظاہرہ نہیں کرنا چاہیے۔ امام علی (علیہ السلام) کی یہ تعلیمات آج بھی مسلمانوں کے لیے مشعل راہ ہیں، کہ ہمیں اپنے ایمان اور اصولوں کے لیے ہمیشہ کھڑے رہنا چاہیے۔
