یہ مکتوب امام علی علیہ السلام کی طرف سے اہل مصر کے نام ہے، جب انہوں نے مالک اشتر کو وہاں کا حاکم مقرر کیا۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب زمین پر اللہ کی نافرمانی اور اس کے حق کی پامالی ہو رہی تھی، اور ظلم نے ہر جگہ اپنی چادر تانے رکھی تھی۔ اس خط میں امام علی علیہ السلام نے اہل مصر کو یاد دہانی کرائی ہے کہ وہ اللہ کے بندے ہیں اور انہیں اللہ کے راستے پر چلنے کی ضرورت ہے۔
امام علی علیہ السلام نے مالک اشتر کا ذکر کیا ہے، جو ایک وفادار اور نڈر رہنما ہیں۔ وہ ان کے بارے میں فرماتے ہیں کہ وہ خطرے کے وقت سوتے نہیں اور دشمن کے سامنے ڈرتے نہیں۔ یہ ان کی شجاعت اور بہادری کی مثال ہے۔ امام نے اہل مصر کو تاکید کی ہے کہ وہ مالک کی بات سنیں اور ان کی ہر حق بات کو مانیں، کیونکہ وہ اللہ کی تلواروں میں سے ایک ہیں۔
خط میں امام علی علیہ السلام نے یہ بھی واضح کیا ہے کہ مالک اشتر کی قیادت میں وہ لوگ اللہ کی راہ میں لڑنے کے لئے تیار رہیں۔ اگر وہ انہیں دشمن کی طرف بڑھنے کا حکم دیں تو انہیں آگے بڑھنا چاہئے، اور اگر رکنے کا حکم دیں تو رکنا چاہئے۔ یہ ان کی اطاعت کا ایک اہم پہلو ہے جو اسلامی قیادت میں بہت اہمیت رکھتا ہے۔
اس خط کا ایک اہم پیغام یہ ہے کہ صحیح قیادت کی پیروی کرنا اور اللہ کی راہ میں ثابت قدم رہنا ضروری ہے۔ امام علی علیہ السلام نے یہ واضح کیا کہ مالک اشتر کی قیادت میں اہل مصر کو سختی سے دشمن کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ یہ خط ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہمیں اپنے رہنما کی باتوں پر عمل کرنا چاہئے اور اللہ کی راہ میں ہر حال میں ثابت قدم رہنا چاہئے۔
