Nehjul Balagah Detailed Explanation Nehjul Balagah Detailed Explanation : 43

تفصیلی وضاحت — مکتوب (43) : مصقلہ ابن شیبانی کے نام جو آپ علیہ السلام کی طرف سے ارد کا شیر خرہ حاکم تھا (43- مصقلہ ابن ہبیرہ عامل اردشیرخرہ کے نام)

مکتوب (43) امام علی علیہ السلام کا ایک اہم خط ہے جو مصقلہ ابن ہبیرہ شیبانی کے نام لکھا گیا۔ یہ خط اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کی عکاسی کرتا ہے جب امام علی علیہ السلام خلافت کے دور میں مسلمانوں کے درمیان انصاف اور مساوات کو فروغ دینے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس خط میں امام علیہ السلام نے مصقلہ کو تنبیہ کی ہے کہ اگر وہ مسلمانوں کے مال غنیمت کو اپنے قبیلے کے لوگوں میں بانٹ رہا ہے تو یہ نہ صرف خدا کی ناراضگی کا باعث بنے گا بلکہ امام کی بھی ناراضگی کا سبب بنے گا۔

اس خط کا ایک اہم موضوع انصاف اور مال کی مساوات کی تقسیم ہے۔ امام نے واضح کیا ہے کہ یہ مال ان مسلمانوں کا ہے جنہوں نے اس کے حصول میں جانیں قربان کی ہیں۔ امام نے اس بات پر زور دیا کہ ہر مسلمان کا حق ہے کہ وہ اس مال میں برابر کا شریک ہو، اور کسی بھی قسم کی ناانصافی یا ذاتی مفادات کی خاطر اس مال کو بانٹنا نہ صرف غلط ہے بلکہ دین کی روح کے بھی خلاف ہے۔

امام علیہ السلام نے ایک طاقتور جملہ استعمال کیا ہے: "فوالذی فلق الحبة و برأ النسمة!" یعنی خدا کی قسم! اگر یہ بات صحیح ثابت ہوئی تو تم میری نظر میں ذلیل ہو جاؤ گے۔ اس جملے میں امام نے خدا کی عظمت اور اس کے سامنے انسان کی حیثیت کو واضح کیا ہے۔ یہ ایک یاد دہانی ہے کہ خدا کی نظر میں انسان کی حیثیت اس کے اعمال سے جڑی ہوئی ہے۔

مکتوب کا ایک اور اہم پہلو یہ ہے کہ امام نے مصقلہ کو متنبہ کیا ہے کہ دین کی خاطر دنیا کو بگاڑنا ایک خطرناک عمل ہے۔ یہ ایک اخلاقی سبق ہے کہ انسان کو اپنی دنیاوی مفادات کے لیے دین کی بنیادوں کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے۔ امام نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ عمل کے اعتبار سے خسارہ اٹھانے والوں میں شامل ہوں گے۔

اس خط سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ ہر مسلمان کو اپنے حقوق اور ذمہ داریوں کا خیال رکھنا چاہیے اور کسی بھی قسم کی ناانصافی سے بچنا چاہیے۔ امام علی علیہ السلام کا یہ مکتوب ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ معاشرتی انصاف اور مساوات کو برقرار رکھنا نہ صرف ہمارے دینی فرائض میں شامل ہے بلکہ یہ ہماری دنیاوی زندگی کے لیے بھی ضروری ہے۔