یہ مکتوب امام علی علیہ السلام کا ایک اہم خط ہے جو خراج وصول کرنے والوں کے نام لکھا گیا ہے۔ اس خط کا تاریخی پس منظر یہ ہے کہ یہ دور خلافت راشدہ کا ہے جب امام علی علیہ السلام نے اسلامی حکومت کی بنیاد رکھی اور عوامی مسائل کے حل کے لئے اقدامات کئے۔ اس خط میں امام نے اپنے خراج کے تحصیلداروں کو ان کی ذمہ داریوں کی یاد دہانی کرائی ہے اور ان کے فرائض کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے۔
امام علی علیہ السلام نے اس خط میں واضح کیا ہے کہ جو شخص اپنے اعمال کے نتائج سے خوفزدہ نہیں ہوتا، وہ اپنے نفس کی حفاظت نہیں کر سکتا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنے اعمال کے نتائج کا خوف ہونا چاہئے تاکہ وہ اپنی اصلاح کر سکے۔ امام نے یہ بھی فرمایا کہ تم پر عائد فرائض کم ہیں لیکن ان کا ثواب بہت زیادہ ہے، جو اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ اللہ کی راہ میں کی جانے والی کوششیں کبھی ضائع نہیں جاتیں۔
اس خط میں عدل و انصاف کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے۔ امام علی علیہ السلام نے خراج وصول کرنے والوں کو ہدایت کی کہ وہ لوگوں کے ساتھ انصاف کریں اور ان کی ضروریات کا خیال رکھیں۔ یہ بات اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ اسلامی حکومت کی بنیاد عوامی خوشحالی اور انصاف پر ہونی چاہئے۔ امام نے یہ بھی تاکید کی کہ کسی بھی مسلمان یا ذمی کے مال کو بغیر کسی جائز وجہ کے نہ چھوا جائے۔
امام علی علیہ السلام نے خراج وصول کرنے والوں کو یہ بھی یاد دلایا کہ وہ رعیت کے خزانہ دار ہیں اور ان کی ذمہ داری ہے کہ وہ عوام کی ضروریات کو پورا کریں۔ انہوں نے یہ بات بہت واضح طور پر بیان کی کہ ان کی حیثیت ایک نمائندہ اور سفیر کی ہے، لہذا انہیں اپنی ذمہ داریوں کا احساس کرنا چاہئے۔
اس خط میں امام نے اللہ کی راہ میں کوششوں کی اہمیت کو بھی اجاگر کیا ہے۔ انہوں نے فرمایا کہ اللہ سبحانہ و تعالیٰ نے ہم سب سے یہ توقع رکھی ہے کہ ہم اس کے احسانات کا شکر ادا کریں اور اس کی راہ میں اپنی طاقت کے مطابق کوشش کریں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میں اللہ کی رضا کے لئے کام کرنا چاہئے اور اس کے احکام کی پیروی کرنی چاہئے۔
