مکتوب (66) میں امام علی (علیہ السلام) نے عبداللہ ابن عباس کے نام ایک اہم پیغام بھیجا ہے۔ یہ خط اس وقت کے سیاسی اور سماجی حالات کی عکاسی کرتا ہے جب امام علی (ع) خلافت کے منصب پر فائز تھے۔ ابن عباس، جو کہ ایک معروف صحابی اور امام کے قریبی ساتھی تھے، کو یہ خط ان کی ذمہ داریوں اور دنیاوی معاملات کی حقیقت کی یاد دہانی کے لیے لکھا گیا۔
اس خط میں امام علی (ع) نے انسانی نفسیات کی ایک دلچسپ حقیقت کی طرف اشارہ کیا ہے کہ انسان اکثر ان چیزوں پر خوش ہوتا ہے جو اس کے ہاتھ سے جانے والی ہوتی ہیں، اور ان چیزوں پر غمگین ہوتا ہے جو اس کی دسترس میں نہیں ہوتی۔ یہ ایک عام انسانی رویہ ہے جس کی نشاندہی کرتے ہوئے امام (ع) نے کہا کہ ہمیں اپنی خوشیوں اور غموں کے معیار کو بدلنا چاہیے۔
امام (ع) نے یہ واضح کیا کہ دنیاوی لذتوں اور انتقام کے جذبات کو اپنی خوشی کا معیار نہیں بنانا چاہیے۔ بلکہ، ہمیں حق کو زندہ کرنے اور باطل کو مٹانے کی کوشش کرنی چاہیے۔ یہ ایک اعلیٰ اخلاقی اور روحانی سبق ہے جو ہمیں بتاتا ہے کہ ہماری حقیقی خوشی اور کامیابی اس بات میں ہے کہ ہم اپنے اعمال کے ذریعے اللہ کی رضا حاصل کریں۔
امام علی (ع) نے یہ بھی فرمایا کہ انسان کو اپنی آخرت کی فکر کرنی چاہیے اور اس پر افسوس کرنا چاہیے کہ جو کچھ اس نے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کیا۔ یہ ایک عملی نصیحت ہے کہ ہمیں اپنی زندگی کے ہر لمحے کو اللہ کی راہ میں صرف کرنا چاہیے اور آخرت کے لیے سرمایہ جمع کرنا چاہیے۔
