مکتوب (70) امام علی (علیہ السلام) کا یہ خط مدینہ کے والی، سہل ابن حنیف انصاری کے نام ہے۔ یہ خط اس وقت لکھا گیا جب کچھ لوگ مدینہ سے معاویہ کی طرف جا رہے تھے۔ اس تاریخی تناظر میں، یہ خط ایک اہم پیغام ہے جو امام علی (علیہ السلام) کی قیادت اور حق کی طرف رہنمائی کو واضح کرتا ہے۔
امام علی (علیہ السلام) کا یہ پیغام ان لوگوں کے بارے میں ہے جو حق کو چھوڑ کر باطل کی طرف جا رہے ہیں۔ وہ ان لوگوں کی تعداد کو کم اہمیت دیتے ہیں جو معاویہ کے پاس جا رہے ہیں، اور ان کے گمراہ ہونے پر افسوس نہ کرنے کی تلقین کرتے ہیں۔ یہ ایک مضبوط پیغام ہے کہ جو لوگ حق کو چھوڑتے ہیں، ان کا انجام برا ہوتا ہے۔
خط میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ یہ لوگ دنیا کی طرف جھک رہے ہیں، جہاں انصاف کی جگہ مخصوصیت اور ذاتی مفادات کا عمل دخل ہے۔ امام علی (علیہ السلام) ان لوگوں کی حقیقت کو بیان کرتے ہیں کہ وہ ظلم سے نہیں بھاگے، بلکہ عدل کی طرف سے دور ہو رہے ہیں۔ یہ ایک اہم نقطہ ہے جو ہمیں سکھاتا ہے کہ حق کی راہ پر چلنا ہمیشہ آسان نہیں ہوتا، لیکن یہ ضروری ہے۔
امام علی (علیہ السلام) کی امید کا اظہار بھی اس خط میں موجود ہے کہ اللہ تعالی ان کے لیے مشکلات کو آسان کرے گا۔ یہ ایک روحانی پیغام ہے کہ مومن کو ہمیشہ اللہ پر بھروسہ رکھنا چاہیے، چاہے حالات کتنے ہی مشکل کیوں نہ ہوں۔
آخر میں، یہ خط ایک عملی سبق بھی دیتا ہے کہ ہمیں اپنے ارد گرد کے لوگوں کی گمراہی سے مایوس نہیں ہونا چاہیے، بلکہ ہمیں حق کی طرف رہنمائی کرتے رہنا چاہیے۔ امام علی (علیہ السلام) کا یہ پیغام آج بھی ہمیں یہ سکھاتا ہے کہ ہم کس طرح حق کی راہ پر ثابت قدم رہ سکتے ہیں۔
