مکتوب (72) میں امام علی علیہ السلام نے عبداللہ ابن عباس رحمہ اللہ کو کچھ اہم نصیحتیں کی ہیں جو انسانی زندگی کی حقیقتوں کو اجاگر کرتی ہیں۔ یہ خط ایک ایسے دور میں لکھا گیا جب اسلامی معاشرہ مختلف چیلنجز کا سامنا کر رہا تھا، اور امام علی علیہ السلام نے اس خط کے ذریعے اپنے پیروکاروں کو صبر، تقدیر، اور دنیا کی فانی نوعیت کے بارے میں سمجھایا۔
امام علی علیہ السلام فرماتے ہیں کہ انسان اپنی زندگی کی حد سے آگے نہیں بڑھ سکتا اور نہ ہی وہ چیزیں حاصل کر سکتا ہے جو اس کے مقدر میں نہیں ہیں۔ یہ ایک اہم فلسفہ ہے جو تقدیر اور انسان کی کوششوں کے درمیان توازن قائم کرتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو اپنی کوششیں کرنی چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی جاننا چاہیے کہ کچھ چیزیں اس کی تقدیر میں نہیں ہیں۔
امام علیہ السلام نے یہ بھی ذکر کیا کہ دنیا دو دنوں میں تقسیم ہے: ایک دن انسان کے حق میں اور دوسرا دن اس کے خلاف۔ یہ بیان ہمیں یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں خوشی اور غم دونوں آتے ہیں، اور ہمیں ان کے ساتھ صبر اور استقامت کے ساتھ پیش آنا چاہیے۔
خط کے آخر میں یہ بات بھی کی گئی ہے کہ دنیا میں جو چیزیں انسان کے لئے فائدہ مند ہیں وہ اس کی کمزوری کے باوجود اسے ملیں گی، جبکہ نقصان دہ چیزیں چاہے انسان کتنی بھی طاقتور ہو، ان سے بچ نہیں سکتا۔ یہ ایک اہم سبق ہے کہ انسان کو اپنی طاقت اور کمزوریوں کے بارے میں حقیقت پسندانہ رویہ اپنانا چاہیے۔
اس خط کی روحانی اور عملی تعلیمات ہمیں یہ سکھاتی ہیں کہ ہمیں اپنی تقدیر کو قبول کرنا چاہیے اور اس کے مطابق اپنی کوششیں کرنی چاہئیں۔ زندگی میں آنے والے چیلنجز کا سامنا کرنے کے لئے ہمیں صبر اور استقامت کی ضرورت ہے، اور یہ سمجھنا چاہیے کہ کچھ چیزیں ہماری قوت سے باہر ہیں۔
