(۳۰۷)
اولاد کے مرنے پر آدمی کو نیند آ جاتی ہے، مگر مال کے چھن جانے پر اسے نیند نہیں آتی۔
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اولاد کے مرنے پر صبر کر لیتا ہے، مگر مال کے جانے پر صبر نہیں کرتا۔
(۳۰۷)
اولاد کے مرنے پر آدمی کو نیند آ جاتی ہے، مگر مال کے چھن جانے پر اسے نیند نہیں آتی۔
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اولاد کے مرنے پر صبر کر لیتا ہے، مگر مال کے جانے پر صبر نہیں کرتا۔