(۳۵۹)
اے حرص و طمع کے اسیرو! باز آؤ، کیونکہ دنیا پر ٹوٹنے والوں کو حوادث زمانہ کے دانت پیسنے ہی کا اندیشہ کرنا چاہیے۔
اے لوگو! خود ہی اپنی اصلاح کا ذمہ لو اور اپنی عادتوں کے تقاضوں سے منہ موڑ لو۔
(۳۵۹)
اے حرص و طمع کے اسیرو! باز آؤ، کیونکہ دنیا پر ٹوٹنے والوں کو حوادث زمانہ کے دانت پیسنے ہی کا اندیشہ کرنا چاہیے۔
اے لوگو! خود ہی اپنی اصلاح کا ذمہ لو اور اپنی عادتوں کے تقاضوں سے منہ موڑ لو۔