حکمت حکمت : 373

حکمت (373) : ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبدالرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجا ج سے لڑنے کے لیے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کے لیے کہتے تھے کہ جب اہل شام سے لڑنے کے لیے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا۔ اے اہل ایمان ! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جو زبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے صرف دل سے بر اسمجھنے والے سے افضل ہے اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہوتا کہ اللہ کا بول بالا ہو، اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پا لیا اور سیدھے راستے پر ہولیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔ (373- امر بالمعروف و نہی عن المنکر)

(۳۷۳)
ابن جریر طبری نے اپنی تاریخ میں عبد الرحمٰن ابن ابی لیلیٰ فقیہ سے روایت کی ہے، اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جو ابن اشعث کے ساتھ حجاج سے لڑنے کیلئے نکلے تھے کہ وہ لوگوں کو جہاد پر ابھارنے کیلئے کہتے تھے کہ: ہم جب اہل شام سے لڑنے کیلئے بڑھے تو میں نے علی علیہ السلام کو فرماتے سنا:
اے اہل ایمان! جو شخص دیکھے کہ ظلم و عدوان پر عمل ہو رہا ہے اور برائی کی طرف دعوت دی جا رہی ہے اور وہ دل سے اسے برا سمجھے، تو وہ (عذاب سے )محفوظ اور (گناہ سے) بری ہو گیا، اور جو زبان سے اسے برا کہے وہ ماجور ہے اور صرف دل سے برا سمجھنے والے سے افضل ہے، اور جو شخص شمشیر بکف ہو کر اس برائی کے خلاف کھڑا ہو، تاکہ اللہ کا بول بالا ہو اور ظالموں کی بات گر جائے تو یہی وہ شخص ہے جس نے ہدایت کی راہ کو پا لیا اور سیدھے راستے پر ہو لیا اور اس کے دل میں یقین نے روشنی پھیلا دی۔