حکمت (416) : اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا :اے فرزند دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑ و۔اس لیے کہ تم دو میں سے ایک کے لیے چھوڑ و گے۔ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کے لیے راحت و آرام کا باعث ہو گا۔یاوہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے ،تو وہ تمہارے جمع کر دہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میںاس کے معین و مدد گار ہو گے ،اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔
سید رضی فرماتے ہیں کہ یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے
جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے۔اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم میں سے دو میں سے ایک کے لیے جمع کرنے والے ہو۔ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خد اکی اطاعت میں صرف کرے گا۔تو جو مال تمہارے لیے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کے لیے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کے لیے جمع کیا وہ تمہارے لیے بد بختی کا سبب ہو گا اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنی پشت کو گرانبار کرو ،جو گزر گیا اس کے لیے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کے لیے رزق الہی کے امیدوار رہو۔ (416- امام حسن ؈ کو ہدایت)
(۴۱۶) اپنے فرزند حسن علیہ السلام سے فرمایا: اے فرزند! دنیا کی کوئی چیز اپنے پیچھے نہ چھوڑو۔ اس لئے کہ تم دو میں سے ایک کیلئے چھوڑو گے: ایک وہ جو اس مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا تو جو مال تمہارے لئے بدبختی کا سبب بنا وہ اس کیلئے راحت وآرام کا باعث ہو گا۔ یا وہ ہو گا جو اسے خدا کی معصیت میں صرف کرے تو وہ تمہارے جمع کردہ مال کی وجہ سے بد بخت ہو گا اور اس صورت میں تم خدا کی معصیت میں اس کے معین و مدد گار ہو گے۔ اور ان دونوں میں سے ایک شخص بھی ایسا نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو۔ سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ کلام ایک دوسری صورت میں بھی روایت کیا گیا ہے جو یہ ہے: جو مال تمہارے ہاتھ میں ہے تم سے پہلے اس کے مالک دوسرے تھے اور یہ تمہارے بعد دوسروں کی طرف پلٹ جائے گا اور تم دو میں سے ایک کیلئے جمع کرنے والے ہو: ایک وہ جو تمہارے جمع کئے ہوئے مال کو خدا کی اطاعت میں صرف کرے گا، تو جو مال تمہارے لئے بدبختی کا سبب ہوا وہ اس کیلئے سعادت و نیک بختی کا سبب ہو گا، یا وہ جو اس مال سے اللہ کی معصیت کرے تو جو تم نے اس کیلئے جمع کیا وہ تمہارے لئے بد بختی کا سبب ہو گا۔ اور ان دونوں میں سے ایک بھی اس قابل نہیں کہ اسے اپنے نفس پر ترجیح دو اور ان کی وجہ سے اپنی پشت کو گرانبار کرو۔ جو گزر گیا اس کیلئے اللہ کی رحمت اور جو باقی رہ گیا ہے اس کیلئے رزق الٰہی کے امیدوار رہو۔