حکمت حکمت : 431

حکمت (431) : رزق دو طرح کا ہوتا ہے ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے، موت اس کو ڈھونڈتی ہے۔ یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے اور جو شخص آخرت کاخواستگار ہوتا ہے، دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔ (431- رزق و روزی)

(۴۳۱)
رزق دو طرح کا ہوتا ہے: ایک وہ جو خود ڈھونڈتا ہے اور ایک وہ جسے ڈھونڈا جاتا ہے۔ چنانچہ جو دنیا کا طلبگار ہوتا ہے موت اس کو ڈھونڈتی ہے، یہاں تک کہ دنیا سے اسے نکال باہر کرتی ہے، اور جو شخص آخرت کا خواستگار ہوتا ہے دنیا خود اسے تلاش کرتی ہے، یہاں تک کہ وہ اس سے تمام و کمال اپنی روزی حاصل کر لیتا ہے۔