حکمت حکمت : 434

حکمت (434) : آز ماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو۔ سید رضی فرماتے ہیں کہ کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیرالمومنین علیہ السّلام ہونے کے مویدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ ماموں نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ »آزماؤ تاکہ اس سے نفرت کرو «۔تو میں یوں کہتا کہ دشمنی کرواس سے تاکہ آزماؤ۔ (434- آزمائش)

(۴۳۴)
آزماؤ! کہ اس سے نفرت کرو۔
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: کچھ لوگوں نے اس فقرے کی جناب رسالت مآب ﷺ سے روایت کی ہے، مگر اس کے کلام امیر المومنین علیہ السلام ہونے کے مؤیدات میں سے ہے وہ جسے ثعلب نے بیان کیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مجھ سے ابن اعرابی نے بیان کیا کہ: مامون نے کہا کہ اگر حضرت علی علیہ السلام نے یہ نہ کہا ہوتا کہ «آزماؤ! کہ اس سے نفرت کرو»، تو میں یوں کہتا کہ: دشمنی کرو اس سے تاکہ آزماؤ۔