(۴۵۹)
تقدیر ٹھہرائے ہوئے اندازے پر غالب آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔
(۴۵۹)
تقدیر ٹھہرائے ہوئے اندازے پر غالب آ جاتی ہے۔ یہاں تک کہ چارہ سازی ہی تباہی و آفت بن جاتی ہے۔
سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ: یہ مطلب اس سے مختلف لفظوں میں پہلے بھی گزر چکا ہے۔