حکمت (464) : بنی امیہ کے لیے ایک مرودارواد (مہلت کا میدان )ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آ جائیں گے۔
(سید رضی فرماتے ہیں کہ)مرودار واد مفعل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے گویا آپ علیہ السّلام نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کے لیے دوڑے جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔ (464- بنی اُمیہ)
(۴۶۴)
بنی امیہ کیلئے ایک مرود (مہلت کا میدان) ہے جس میں وہ دوڑ لگا رہے ہیں، جب ان میں باہمی اختلاف رونما ہو تو پھر بجّو بھی ان پر حملہ کریں تو ان پر غالب آ جائیں گے۔
(سیّد رضیؒ فرماتے ہیں کہ:) ’’مرود‘‘ ارواد سے مِفْعَل کے وزن پر ہے اور اس کے معنی مہلت و فرصت دینے کے ہیں اور یہ بہت فصیح اور عجیب و غریب کلام ہے۔ گویا آپؑ نے ان کے زمانہ مہلت کو ایک میدان سے تشبیہ دی ہے جس میں انتہا کی حد تک پہنچنے کیلئے دوڑ رہے ہیں۔ چنانچہ جب اپنی آخری حد تک پہنچ جائیں گے تو ان کا نظام درہم برہم ہو جائے گا۔