(۷۲)
زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو تر و تازہ کرتا ہے، موت کو قریب اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے۔ جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے۔
(۷۲)
زمانہ جسموں کو کہنہ و بوسیدہ اور آرزوؤں کو تر و تازہ کرتا ہے، موت کو قریب اور آرزوؤں کو دور کرتا ہے۔ جو زمانہ سے کچھ پا لیتا ہے وہ بھی رنج سہتا ہے اور جو کھو دیتا ہے وہ تو دکھ جھیلتا ہی ہے۔