حکمت حکمت : 77

حکمت (77) : جب ضرار ابن ضمرۃ صنبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السّلام کے متعلق ان سے سوال کیا، تو انہوں نے کہا کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپ کو دیکھا جب کہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی۔ تو آپ محراب عبادت میں استادہ ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے۔ اے دنیا! اے دنیا دور ہو مجھ سے۔ کیا میرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے) بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے، جا کسی اور کو جل دے مجھے تیری خواہش نہیں ہے۔ میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ تیری زندگی تھوڑی، تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے۔ افسوس زادِ راہ تھوڑا، راستہ طویل، سفر دور دراز اور منزل سخت ہے۔ (77- ضرار کا بیان)

(۷۷)
جب ضرار ابن ضمرہ ضبائی معاویہ کے پاس گئے اور معاویہ نے امیرالمومنین علیہ السلام کے متعلق ان سے سوال کیا تو انہوں نے کہا کہ میں اس امر کی شہادت دیتا ہوں کہ میں نے بعض موقعوں پر آپؑ کو دیکھا جبکہ رات اپنے دامن ظلمت کو پھیلا چکی تھی، تو آپؑ محراب عبادت میں ایستادہ، ریش مبارک کو ہاتھوں میں پکڑے ہوئے، مار گزیدہ کی طرح تڑپ رہے تھے اور غم رسیدہ کی طرح رو رہے تھے اور کہہ رہے تھے:
اے دنیا! اے دنیا دور ہو مجھ سے۔ کیا میرے سامنے اپنے کو لاتی ہے؟ یا میری دلدادہ و فریفتہ بن کر آئی ہے؟ تیرا وہ وقت نہ آئے (کہ تو مجھے فریب دے سکے)! بھلا یہ کیونکر ہو سکتا ہے؟ جا کسی اور کو جَل دے! مجھے تیری خواہش نہیں ہے۔ میں تو تین بار تجھے طلاق دے چکا ہوں کہ جس کے بعد رجوع کی گنجائش نہیں۔ تیری زندگی تھوڑی، تیری اہمیت بہت ہی کم اور تیری آرزو ذلیل و پست ہے۔ افسوس! زادِ راہ تھوڑا، راستہ طویل، سفر دور و دراز اور منزل سخت ہے۔